Can't connect right now! retry
Advertisement

پاکستان
22 نومبر ، 2017
,

عوام وفاقی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے تقسیم


کراچی : جنگ جیو نیوز کے حالیہ سروے میں پاکستانی عوام کی رائے وفاقی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے تقسیم دکھائی دیتی ہے۔

جنگ جیو نیوز کی جانب سے گیلپ پاکستان اور پلس کنسلٹنٹ کے اشتراک سے کیے گئے حالیہ سرویز میں لوگوں سے صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومت کی کارکردگی پر بھی رائے لی گئی۔

جب لوگوں سے وفاقی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے پوچھا گیا تو گیلپ پاکستان کے سروے میں شامل42فیصد افراد وفاقی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نظر آئے ، البتہ 30 فیصد افراد نے وفاقی حکومت کی کارکردگی کو غیر اطمینان بخش قرار دیا جب کہ 25 فیصد افراد نہ تو کارکردگی سے مطمئن تھے نہ غیر مطمئن ۔سروے میں شامل 3 فیصد افراد نے اس سوال کا کوئی جواب دینے سے گریز کیا۔


گیلپ سروے میں وفاقی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن افراد کو صوبائی بنیادوں پر دیکھا جائے تو پنجاب سے 48 فیصدمطمئن اور 26 فیصد غیرمطمئن ، سندھ سے 35 فیصد مطمئن اور 37 فیصد غیر مطمئن، بلوچستان سے 29 فیصد مطمئن اور 19 فیصد غیرمطمئن، جبکہ خیبرپختونخوا سے 28 فیصد افراد وفاقی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن اور 34 فیصد غیرمطمئن نظر آئے۔

اسی سوال پر پلس کنسلٹنٹ کے نتائج کے مطابق 34 فیصد افراد وفاقی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نظر آئے ، البتہ 38 فیصد افراد نے وفاقی حکومت کی کارکردگی کو غیر اطمینان بخش قرار دیا۔ 22فیصد افراد نہ تو کارکردگی سے مطمئن تھے نہ غیر مطمئن جب کہ 6فیصد نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔


پلس کنسلٹ کے سروے میں جب وفاقی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن افراد کو صوبائی بنیادوں پر دیکھا گیا تو پنجاب سے39 فیصدمطمئن اور 31 فیصد غیرمطمئن ، سندھ سے 22 فیصد مطمئن اور 51 فیصد غیرمطمئن ، بلوچستان سے 51 فیصد مطمئن اور 29 فیصد غیرمطمئن ، جبکہ خیبرپختونخوا سے 25 فیصد افراد وفاقی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن اور 47 فیصد غیرمطمئن نظر آئے۔

ادارتی نوٹ:

یہ سرویز بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ پاکستانی اداروں گیلپ پاکستان، پلس کنسلٹنٹ نے جنگ-جیو -نیوز ((JGNکےلیے الگ الگ کیے ہیں ۔ ان میں مجموعی طور پر ملک بھر سے شماریاتی طور پرمنتخب 6 ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا ۔

یہاں واضح رہے کہ اس پول کے لیے دو مختلف اداروں کی خدمات حاصل کرنے کا مقصد رائے عامہ کو مزید شفاف طریقے سے سامنے لانا ہے۔اس قسم کے سرویز کو حتمی تصور نہیں کیا جا سکتا اور یہ صرف رائے عامہ کا ایک جائزہ پیش کرتے ہیں اور ان میں غلطی کی گنجائش ہوتی ہے ۔

دنیا کے بڑے میڈیا ہاؤسز رائے عامہ کو جاننے کے لیے وقتاً فوقتاًاس قسم کے سروے کرواتے ہیں ۔ جیو نیوز پاکستان کا بڑا میڈیا ہاؤس ہونے کے ناطے ماضی میں بھی اس قسم کے سرویز قومی امور پر پیش کرتا رہا ہے ۔



Advertisement