Can't connect right now! retry
Advertisement

پاکستان
22 نومبر ، 2017

احتساب عدالت: نواز شریف اور مریم کی درخواستوں پر نیب سے جواب طلب

احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور مریم نواز کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی تاریخوں میں رد و بدل کی درخواستوں پر نیب سے جواب طلب کرلیا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے دائر تین ریفرنسز ایون فیلڈ پراپرٹیز اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی 13ویں اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کی 14ویں سماعت کی۔

سماعت شروع ہوئی تو نواز شریف اور مریم نواز کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواستوں میں تبدیلی کی درخواست جمع کرائی گئی۔

ایک ماہ کی حاضری سے استثنیٰ کی مدت میں تبدیلی کی درخواست میں استدعا کی کہ حاضری سے استثنیٰ کی مدت 5 دسمبر سے 5 جنوری کی جائے۔

عدالت نے نواز شریف اور مریم نواز کی حاضری سے استثنیٰ کی نئی درخواستوں پر نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کی سماعت 28 نومبر تک ملتوی کردی۔

عدالت نے قرار دیا کہ نیب کا جواب آنے کے بعد آئندہ سماعت پر استثنیٰ کی درخواستوں کا فیصلہ کریں گے۔

سماعت کے دوران نیب کی جانب سے پیش کردہ 3 گواہوں نے بیانات ریکارڈ کرائے۔ 

گواہ محمد رشید نے گواہی دیتے ہوئے بتایا کہ نیب لاہور نے پانچ ستمبر کوخط بھیجا، تمام دستاویزات لےکرنیب لاہور کے سامنے پیش ہوا اور تفتیشی افسر عمران ڈوگر کوتمام دستاویزات فراہم کیں۔

گواہ محمد رشید نے بتایا کہ نیب نے 5 ستمبر سے پہلے کوئی خط نہیں لکھا اور 6 ستمبر 2017 کے علاوہ کبھی نیب کے سامنے پیش نہیں ہوا جس پر جج محمد بشیر نے کہا کہ سیدھا جواب دیں، جھوٹ بولیں گے تو دس سوال اور ہوں گے۔

نیب کے دوسرے گواہ مظہر رضا بنگش نے لندن فلیٹس ریفرنس میں بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ اگست 2017 میں نیب لاہور کے سامنے پیش ہوا جب کہ اپنے بیان کی کاپی جمع کرادی ہے۔

گواہ نے کہا کہ التوفیق کیس کے فیصلے میں نواز شریف ملزم نہیں، تفتیشی افسر کے مطابق کمپنی نے نواز شریف کو کوئی سروس نہیں دی تاہم اس کے مندرجات پر کوئی بات نہیں کرونگا کیوں کہ یہ عدالتی حکم نامہ ہے۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیا آپ کو 9 افراد کے پتے دیے گئے تھے جس پر انہوں نے 'مجھے 20 سال پرانی بات یاد نہیں تحریری ہدایات دی گئیں یا زبانی جس پر وکیل نے کہا کہ ہم آپ کو تھوڑا یاد کرواتے ہیں۔

اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے اعتراض اٹھایا کہ عدالتی آرڈر کے مندرجات پر کیسے بات کر سکتے ہیں۔

نیب کے تیسرے گواہ چوہدری شوگر ملز کے چیف فنانشل شہباز حیدر تھے، جنہوں نے بیان ریکارڈ کرادیا جن پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے جرح مکمل کرلی۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو گزشتہ سماعت پر عدالت نے ایک ہفتے جب کہ مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایک ایک ماہ کے لئے حاضری سے استثنیٰ دیا تھا۔

العزیزیہ ملز ریفرنس میں گواہ طیب معظم کا بیان مکمل نہ ہو سکا جب کہ عدالت نے استغاثہ کے مزید 2 گواہان عمر دراز اور مختار احمد کو طلبی کے سمن جاری کرتے ہوئے دونوں کو 28 نومبر کو طلب کر لیا۔

احتساب عدالت نے العزیزیہ ملز ریفرنس پر سماعت 27 نومبر تک ملتوی کردی۔

سابق وزیراعظم نواز شریف آج ساتویں مرتبہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے ہیں جب کہ مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر نے نویں مرتبہ حاضری یقینی بنائی۔

کیس کا پس منظر

سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کئے ہیں جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہے۔

نیب کی جانب سے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ان کے بچوں حسن، حسین ، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا ہے۔

العزیزیہ اسٹیل ملز جدہ اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

Advertisement