Can't connect right now! retry
Advertisement

پاکستان
24 نومبر ، 2017
,

کس صوبے میں کونسی جماعت مضبوط؟ سروے نتائج آ گئے


جنگ جیو دی نیوز کے لیے گیلپ پاکستان اور پلس کنسلٹنٹ کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ نواز مقبول ترین جماعت ، پی ٹی آئی خیبر پختون خوا میں اور پی پی پی سندھ میں مقبول ترین جماعت ہے۔

سروے میں لوگوں سے سوال پوچھا گیا کہ اگر آج انتخابات ہوں تو وہ کس جماعت کو ووٹ دیں گے؟

پنجاب

گیلپ پاکستان کے سروے میں اس سوال کے جواب میں پنجاب سے 50 فیصد افراد نے مسلم لیگ ن اور 31 فیصد نے پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھنے والے افراد کا تناسب 5فیصد رہا۔

— Geo News Creative Team 



اسی سوال کے جواب میں پلس سروے کے مطابق پنجاب میں 55 فیصد مسلم لیگ ن اور 20 فیصد پی ٹی آئی کو اور7 فیصد پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔

سندھ

اسی طرح سندھ میں پی پی پی گیلپ پاکستان سروے کے مطابق 44 فیصد کے ساتھ پہلے نمبر ، پاکستان مسلم لیگ ن 11 فیصد کے ساتھ دوسرے جب کہ ایم کیو ایم پاکستان 10 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

— Geo News Creative Team

پلس کنسلٹنٹ سروے میں سندھ سے 46 فیصد نے پی پی پی کی جانب ، 10 فیصد نے پی ٹی آئی اور 7 فیصد نے ایم کیو ایم پاکستان کی جانب جھکاؤ ظاہر کیا۔



خیبرپختونخوا

دونوں سرویز میں خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی پوزیشن مضبوط دکھائی دیتی ہے ۔ 

وہاں گیلپ سروے میں 47 فیصد نے پی ٹی آئی ، 10 فیصد نے مسلم لیگ ن اور 9 فیصد نے پی پی پی کو ووٹ ڈالنے کا کہا۔ 

— Geo News Creative Team

پلس سروے میں 53 فیصد افراد نے پی ٹی آئی، 13 فیصد نے مسلم لیگ ن اور 9 فیصد نے جماعت اسلامی کے حق میں ووٹ دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔



بلوچستان

جب بلوچستان کے نتائج کو دیکھا جائے تو وہاں دونوں سرویز کا نتیجہ مختلف ہے۔

— Geo News Creative Team

گیلپ پاکستان کے مطابق 22 فیصد جے یو آئی (ف) ، 18 فیصد پختون خوا ملی عوامی پارٹی اور 16 فیصد افراد نے مسلم لیگ ن کو ووٹ دینے کا کہا جب کہ پلس کنسلٹنٹ سروے میں 39 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ وہ مسلم لیگ ن کو ووٹ دیں گے۔



ادارتی نوٹ:

یہ سرویز بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ پاکستانی اداروں گیلپ پاکستان، پلس کنسلٹنٹ نے جنگ-جیو -نیوز (JGN)کے لیے الگ الگ کیے ہیں۔ ان میں مجموعی طور پر ملک بھر سے شماریاتی طور پرمنتخب 6 ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا ۔

یہاں واضح رہے کہ اس پول کے لیے دو مختلف اداروں کی خدمات حاصل کرنے کا مقصد رائے عامہ کو مزید شفاف طریقے سے سامنے لانا ہے۔ اس قسم کے سرویز کو حتمی تصور نہیں کیا جا سکتا اور یہ صرف رائے عامہ کا ایک جائزہ پیش کرتے ہیں اور ان میں غلطی کی گنجائش ہوتی ہے ۔

دنیا کے بڑے میڈیا ہاؤسز رائے عامہ کو جاننے کے لیے وقتاً فوقتاًاس قسم کے سروے کرواتے ہیں۔ جیو نیوز پاکستان کا بڑا میڈیا ہاؤس ہونے کے ناطے ماضی میں بھی اس قسم کے سرویز قومی امور پر پیش کرتا رہا ہے۔

Advertisement