Can't connect right now! retry
Advertisement

پاکستان
24 نومبر ، 2017
,

2018 میں کونسی جماعت حکومت بنائے گی؟


تقریباً ایک تہائی پاکستانی کا خیال ہے کہ 2018 کے عام انتخابات میں بھی پاکستان مسلم لیگ ن کی وفاق میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو گی۔

سروے میں لوگوں سےسوال کیا گیا کہ اس بات سے قطع نظر کہ وہ کس جماعت کو ووٹ دیں گے، ان کے خیال میں 2018 کے انتخابات میں کونسی جماعت وفاق میں حکومت قائم کرے گی؟

اس کے جواب میں 31 فیصد افراد نے کہا کہ مسلم لیگ ن 2018 کے عام انتخابات میں وفاق میں حکومت بنائے گی جب کہ 26 فیصد نے تحریک انصاف کے حق میں رائے دی۔

— Created by Geo News Creative

13 فیصد افراد کا خیال تھا کہ اگلے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی وفاق میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔

اس سوال کے جواب میں ملنے والی آراء کا مزید باریک بینی سے جائزہ لیا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ پنجاب سے 45 فیصد افراد کے خیال میں آئندہ وفاقی حکومت مسلم لیگ ن کی ہو گی جب کہ 27 فیصد کا خیال تھا کہ تحریک انصاف انتخابات میں سرخرو ہو کر حکومت قائم کرے گی۔

سندھ میں 41 فیصد لوگوں نے پیپلز پارٹی ، 15 فیصد نے تحریک انصاف جب کہ 10 فیصد نے مسلم لیگ ن کے حق میں رائے دی۔ اسی طرح خیبر پختون خوا میں 47 فیصد افراد کا خیال ہے کہ آئندہ وفاقی حکومت تحریک انصاف کی ہو گی جب کہ 13 فیصد کے نزدیک مسلم لیگ ن اور 8 فیصد کے نزدیک پیپلز پارٹی کی وفاق میں حکومت ہو گی۔

بلوچستان میں بسنے والے 18 فیصد افراد کے نزدیک آئندہ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف وفاق میں حکومت بنائے گی جب کہ 16 فیصد کے نزدیک مسلم لیگ ن اور 12 فیصد کے نزدیک پیپلز پارٹی کی حکومت وفاق میں ہوگی۔

پلس کنسلٹنٹ کے نتائج کے مطابق 37 فیصد افراد کا خیال ہے کہ مسلم لیگ ن 2018 کے انتخابات میں حکومت بنائے گی جب کہ 27 فیصد کے نزدیک تحریک انصاف حکومت بنانے میں کامیاب ہو گی۔ 16 فیصد افراد نے پیپلز پارٹی کے حق میں ووٹ دیا۔

— Created by Geo News Creative

پلس کنسلٹنٹ کے سروے میں پنجاب سے 54 فیصد نے مسلم لیگ ن ، سندھ سے 51 فیصد نے پیپلز پارٹی اور خیبر پختون خوا سے 53 فیصد افراد نےتحریک انصاف کی فتح کی پیشگوئی کی۔



ادارتی نوٹ:

یہ سرویز بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ پاکستانی اداروں گیلپ پاکستان، پلس کنسلٹنٹ نے جنگ-جیو -نیوز ((JGNکےلیے الگ الگ کیے ہیں ۔ ان میں مجموعی طور پر ملک بھر سے شماریاتی طور پرمنتخب 6 ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا ۔

یہاں واضح رہے کہ اس پول کے لیے دو مختلف اداروں کی خدمات حاصل کرنے کا مقصد رائے عامہ کو مزید شفاف طریقے سے سامنے لانا ہے۔اس قسم کے سرویز کو حتمی تصور نہیں کیا جا سکتا اور یہ صرف رائے عامہ کا ایک جائزہ پیش کرتے ہیں اور ان میں غلطی کی گنجائش ہوتی ہے ۔

دنیا کے بڑے میڈیا ہاؤسز رائے عامہ کو جاننے کے لیے وقتاً فوقتاًاس قسم کے سروے کرواتے ہیں ۔ جیو نیوز پاکستان کا بڑا میڈیا ہاؤس ہونے کے ناطے ماضی میں بھی اس قسم کے سرویز قومی امور پر پیش کرتا رہا ہے ۔

Advertisement