Can't connect right now! retry
Advertisement

پاکستان
02 دسمبر ، 2017

حکومت سے معاہدے کے بعد لاہور میں 7 روز بعد دھرنا ختم

مذہبی جماعت کے چیئرمین ڈاکٹر اشرف آصف جلالی کا کہنا ہے کہ مطالبات پورے نہ ہوئے تو ایک ماہ بعد پھر دھرنا دیں گے—۔فائل فوٹو

لاہور کے مال روڈ پر گذشتہ 7 روز سے دھرنا دیئے بیٹھی مذہبی جماعت اور حکومتی ٹیم کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے اور تحریری معاہدہ طے پاجانے کے بعد دھرنا ختم کردیا گیا۔

 تاہم جماعت کے چیئرمین ڈاکٹر اشرف آصف جلالی کا کہنا ہے کہ مطالبات پورے نہ ہوئے تو ایک ماہ بعد پھر دھرنا دیں گے۔

واضح رہے کہ لاہور میں مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے سامنے فیصل چوک پر ایک مذہبی جماعت نے گذشتہ 7 روز سے دھرنا دے رکھا تھا، گذشتہ روز جماعت کے سربراہ ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس بلوائی، لیکن اسی دوران حکومت نے مذاکرات کی کال دے دی۔

جس کے بعد رات گئے ہونے والے مذاکرات بالآخر کامیاب ہوئے اور مذہبی جماعت کے چیئرمین ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

حکومت کی طرف سے منظور کیے گئے مطالبات  کے مطابق راجا ظفر الحق کی حلف نامے کے متعلق رپورٹ 20 دسمبر کو قوم کے سامنے لائی جائے گی، مساجد میں ایک سے زائد لاؤڈ اسپیکرز کے لیے 16 جنوری تک قانون سازی کی جائے گی ، دینی شعائر کے حوالے سے نصاب تعلیم کا جائزہ لیا جائے گا جبکہ صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کا فیصلہ خواجہ حمیدالدین سیالوی کریں گے۔

مذاکرات میں حصہ لینے والی حکومتی ٹیم میں وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ، مجتبیٰ شجاع الرحمٰن اور رانا مشہود جبکہ مذہبی جماعت کے وفد میں مفتی عابد جلالی ، میاں ولید شرقپوری، نوید الحسن بکھی شریف والے اور شوریٰ کے دیگر ارکان شامل تھے۔

لاہور دھرنے کا آغاز کب اور کیوں ہوا؟

واضح رہے کہ اسلام آباد-راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد انٹرچینج پر ایک مذہبی و سیاسی جماعت 'تحریک لبیک'کی جانب سے گذشتہ ماہ نومبر کے آغاز میں دھرنے کا آغاز کیا گیا، جس میں وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

مذہبی و سیاسی جماعت نے یہ دھرنا ایک ایسے وقت میں دیا تھا جب رواں برس اکتوبر میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترامیم منظور کی تھیں، جس میں 'ختم نبوت' سے متعلق شق بھی شامل تھی، لیکن بعد میں حکومت نے فوری طور پر اسے 'دفتری غلطی' قرار دے کر دوسری ترمیم منظور کرلی تھی۔

تاہم مذہبی جماعت نے یہ ترمیم کرنے والے کا نام منظرعام پر لانے کا مطالبہ کیا اور اس حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا۔

حکومت نے وزیر قانون کے استعفے کے مطالبے کو ناجائز قرار دیتے ہوئے مظاہرین سے مذاکرات کی کوشش کی تھی تاہم مذاکرات کے تمام ادوار ناکام ہوگئے تھے۔

بعدازاں 25 نومبر کو فیض آباد انٹرچینج کلیئر کرانے کے لیے پولیس اور ایف سی کے ذریعے آپریشن کا آغاز کیا گیا جس میں 250 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

اس آپریشن کے بعد مظاہرین مزید مشتعل ہوگئے اور ملک کے کئی دیگر شہروں میں احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ پھیل گیا جس کے بعد حکومت نے آپریشن معطل کردیا اور وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان ہونے والی تازہ ترین ملاقات میں معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

تاہم وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے کے بعد حکومت اور مذہبی جماعت کے درمیان دھرنا ختم کرنے پر معاہدہ طے پاگیا اور 25 نومبر کو 22 روز بعد فیض آباد دھرنا ختم کردیا گیا۔

مذہبی جماعت کے قائدین نے فیض آباد سمیت دیگر شہروں کے مظاہرین کو بھی دھرنا ختم کرنے کی ہدایت کی لیکن لاہور کے فیصل چوک پر مظاہرین نے دھرنا جاری رکھا، جو اب حکومت سے معاہدے کے بعد ختم کردیا گیا۔

Advertisement