Can't connect right now! retry
Advertisement

دنیا
03 دسمبر ، 2017

امریکا: مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان متوقع

امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آئندہ ہفتے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان متوقع ہے۔

فلسطینی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیا یا پھر امریکی سفارتخانے کو وہاں منتقل کیا گیا تو وہ امن عمل ختم کردیں گے۔

دوسری جانت عرب ممالک کی نمائندہ تنظیم عرب لیگ نے بھی امریکا کے اس متوقع اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے علاقے میں تشدد کو فروغ ملے گا۔

امریکا کے اعلیٰ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کو آئندہ ہفتے منگل تک اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کرنے والے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے مشرق وسطیٰ کا بحران سنگین صورت حال اختیار کر سکتا ہے۔

فلسطینی انتظامیہ کے حکام نے وائٹ ہاوس میں ٹرمپ کے داماد سے ملاقات میں صاف صاف بتا دیا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے ایسا کوئی اقدام کیا گیا تو وہ امن عمل ختم کردیں گے۔

عرب لیگ نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا کے اس اقدام سے خطے میں انتہاپسندی اور تشدد بڑھے گا۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ مقبوضہ بیت المقدس پر اسرائیل کی حاکمیت کو تسلیم نہیں کرتا اور اس کے مطابق یہ متنازع علاقوں میں شامل ہے جس پر اسرائیل نے قبضہ کر رکھا ہے۔

اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت کہتا ہے جبکہ چند ملکوں کے علاوہ تمام ممالک تل ابیب کو ہی اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرتے ہیں اور ان ممالک کے سفارتخانے بھی تل ابیب میں ہی ہیں۔

Advertisement