Can't connect right now! retry
Advertisement

پاکستان
03 دسمبر ، 2017

خواجہ حمیدالدین سیالوی نے رانا ثناء اللہ کے استعفے کا مطالبہ مؤخر کردیا

سرگودھا کے آستانہ سیال شریف کے سجادہ نشین خواجہ حمیدالدین سیالوی نے صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے استعفے کا مطالبہ مؤخر کردیا۔

پیر حمید الدین سیالوی کے بھتیجے اور رکن پنجاب اسمبلی غلام نظام الدین سیالوی نے جیو نیوز سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ حمید الدین سیالوی نے رانا ثناء اللہ کے استعفے کا مطالبہ مؤخر کردیا ہے۔

نظام الدین سیالوی نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے حمید الدین سیالوی سے رابطہ کیا اور اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ رانا ثناء اللہ خود ان کے سامنے پیش ہوکر تحفظات دور کرنے کے لیے تیار ہیں جس کے بعد حمید اللہ سیالوی نے رانا ثناء اللہ کے استعفے کے لیے دیا گیا الٹی میٹم فی الحال واپس لے لیا۔

نظام الدین سیالوی کے مطابق وزیراعلیٰ شہباز شریف نے حمید الدین سیالوی کو بتایا کہ رانا ثناء اللہ پہلی فرصت میں حاضر ہو کر تحفظات دور کرنے کے لیے تیار ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں صوبائی وزیر اوقاف زعیم قادری نے بھی خواجہ حمیدالدین سیالوی سے ملاقات کی تھی  اور اس ملاقات میں خواجہ حمید الدین سیالوی نے زعیم قادری سے صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کو ساتھ لانے کا کہا تھا۔

پیر سیالوی نے زعیم قادری سے کہا تھا کہ وہ رانا ثناءاللہ سے کہیں کہ وہ ٹی وی پر آکر کہیں کہ وہ قادیانیوں کو غیر مسلم سمجھتے ہیں، دوبارہ کلمہ پڑھیں اور استعفیٰ بھی پیش کریں۔

اس کے بعد رانا ثناء اللہ نے مختلف انٹریوز میں کہا تھا کہ خواجہ حمید الدین سیالوی کے ارد گرد موجود لوگوں نے غلط فہمیاں پیدا کردی ہیں اور وہ جلد ان سے ملاقات کرکے غلط فہمیاں دور کردیں گے۔

فیض آباد میں ختم نبوت قانون میں تبدیلی کے ذمہ داروں کو بے نقاب کرنے کے لیے دیے جانے والے دھرنے کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے لاہور کے مال روڈ پر دھرنا دینے والی تنظیم نے بھی رانا ثناء اللہ کے استعفے کا مطالبہ کررکھا تھا اور انہوں نے فیض آباد دھرنا ختم ہونے کے باوجود اپنا مظاہرہ ختم کرنے سے انکار کردیا تھا۔

بعد ازاں پنجاب حکومت نے مال روڈ دھرنا مظاہرین سے ایک معاہدہ کیا تھا جس کے بعد انہوں نے دھرنا ختم کردیا تھا۔

حکومت نے مظاہرین کے جو مطالبات منظور کیے تھے ان میں راجا ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ 20 دسمبر تک قوم کے سامنے لانے، مساجد میں ایک سے زائد لاؤڈ اسپیکرز کے لیے 16 جنوری تک قانون سازی، دینی شعائر کے حوالے سے نصاب تعلیم کا جائزہ اور صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کا فیصلہ خواجہ حمیدالدین سیالوی کے سپرد کرنا شامل تھے۔

Advertisement