Can't connect right now! retry
Advertisement

بلاگ
04 دسمبر ، 2017

کیا بالی وڈ کے پاس خانز کا متبادل موجود ہے؟

 بالی وڈ میں فلمی کاروبار ان تینوں سپر اسٹارز خانز عامر، سلمان اور شاہ رخ کے نام پر ہی چلتا ہے—۔فائل فوٹو/جیو نیوز

بمبئی کی فلم نگری نے آزادی سے لے کر اب تک ہر دور میں لازوال فلموں اور صف اول کے اداکاروں کے ذریعے ساری دنیا میں اپنی صلاحتیوں کا لوہا منوایا ہے۔

50 کی دہائی میں دلیپ کمار، راج کپور، دیو آنند، سنیل دت، بلراج ساہنی اور گرو دت جیسے عظیم فنکار نظر آئے اور اگر 60 کی دہائی پر نظر دوڑائی جائے تو رشی کپور، ششی کپور، راج کمار اور راجندر کمار نے سنیما پر اپنی گہری چھاپ چھوڑی۔

اس کے بعد 70 کی دہائی میں فلم نگری میں رجحانات بدل گئے اور تاریخی و معاشرتی مسائل اور رومانوی موضوعات کے ساتھ ایکشن پر مبنی فلمیں بھی عوام کو اپنے سحر میں گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔

 اُس دور میں فیروز خان، دھرمیندر، ونود کھنہ اور شترو گھن سنہا کا سکہ چلتا دکھائی دیا، لیکن اُس دور کی نمایاں اور تاریخ ساز خصوصیت بلاشبہ ہندی فلموں کے پہلے سپر سٹار راجیش کھنہ تھے جن کے البیلے ڈانسنگ اسٹائل اور ہلکے لہجے میں رومانوی مکالموں کی ادائیگی نے ایک پوری نوجوان نسل کو اپنا دیوانہ بنا دیا۔

ایسے میں فلم نگری میں 'اسٹار ڈم' کا مظہر سامنے آیا جب راجیش کھنہ کی لگاتار 16 فلمیں باکس آفس پر دھوم مچاتی گئیں، لیکن کچھ سال بعد رومانوی رنگ پھیکا پڑ گیا، جس کی وجہ پردہ سکرین پر امتیابھ بچن کی دھماکے دار انٹری تھی۔ جن کے 'اینگری ینگ مین' کے امیج نے بالی وڈ کو ایکشن فلموں کے ایک لامتناہی دور میں داخل کردیا۔

80 کی دہائی میں امتیابھ بچن کی سیاست میں انٹری اور فلموں سے دوری سے بالی وڈ میں ایک خلاء پیدا ہوگیا، جسے انیل کپور، سنی دیول اور سنجے دت بھی پُر نہیں کرسکے۔

ایسے میں فلم انڈسٹری میں عامر اور سلمان خان کی آمد ہوئی اور دونوں ہی نوجوان ہیروز نے ابتدائی سالوں میں خود کو بطور رومانوی ہیرو، بلندیوں پر پہنچا دیا۔ 90 کی ہی دہائی میں تیسرے خان شاہ رخ نے بھی پہلی فلم سے ہی اپنی موجودگی کا احساس دلا دیا۔

ان تینوں کی آمد اور رومانوی اور جذباتیت پر مبنی فلموں نے شائقین کو امیتابھ بچن کے بعد گویا اسٹار پاور کا نیا مظہر دیا، خصوصاً 1995 سے تاحال بالی وڈ کو ان تینوں نے ساری دنیا میں پروموٹ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہی کی بدولت آج ہندی فلمیں بھارت سے باہر بھی اپنا مقام بنا چکی ہیں۔

ان کی کامیابی کا سب سے بڑا ثبوت تینوں خانوں کی حالیہ کچھ عرصے میں ریلیز ہونے والی فلمیں ہیں جن کا بزنس چکرا کر رکھ دیتا ہے۔ کنگ خان شاہ رخ کی فلمیں چند سال پہلے تک دبنگ خان سلمان اور عامر خان کی فلموں کے مقابلے میں کہیں زیادہ منافع کماتی تھیں، مگر اب سلمان اور عامر ان سے بزنس کی دوڑ میں آگے جاچکے ہیں۔

اس کے باوجود بھی کنگ خان کی فلموں کی لاگت اور کمائی کا فرق دیکھیں تو 'چنئی ایکسپریس' ایک ارب کی لاگت سے بنائی گئی اور اس نے 423 کروڑ کا منافع کما کردیا جبکہ 'ہیپی نیو ایئر' 150 کروڑ میں تیار ہوئی اور 397 کروڑ کمانے میں کامیاب ہوئی۔ اگر فلم 'رئیس' کی بات ہو تو اس کی تیاری میں 127کروڑ روپے لگے اور اس کا منافع 308کروڑ رہا۔

دبنگ خان کی بات کی جائے تو پچھلے 6 سالوں سے ان کی فلمیں سونا بن کر منافع کما رہی ہیں، جیسا کہ 'دبنگ ٹو' 400 کروڑ کمانے میں کامیاب رہی، 'بجرنگی بھائی جان' 90 کروڑ کی لاگت سے بنی اور اس کا بزنس ساڑھے 6 ارب تک پہنچ گیا، 'سلطان' کی تیاری میں بھی 90 کروڑ صرف ہوئے مگر اس کا منافع پونے 6 ارب تک گیا۔

اب بات ہوجائے انڈسٹری کے سب سے کامل اور ذہین ایکٹر عامر خان کی، جنہوں نے تمام اعداد و شمار الٹ کر رکھ دیئے اور ان کی فلم 'دنگل' نے ساری دنیا بشمول ہندوستان سے 2000 کروڑ کی افسانوی کمائی کی۔ یاد رہے یہ فلم محض 70 کروڑ میں بنی تھی۔ اس سے قبل 75 کروڑ میں بننے والی فلم  'پی کے' نے تقریباً 7 ارب کا بزنس کیا تھا۔ محض 50 کروڑ کی لاگت سے بننے والی 'تھری ایڈیٹس' بھی 400 کروڑ کمانے میں کامیاب رہی تھی۔

سچ تو یہ ہے کہ بالی وڈ میں فلمی کاروبار ان تینوں سپر اسٹارز عامر، سلمان اور شاہ رخ کے نام پر ہی چلتا ہے، لیکن آج تینوں خانز کا ستارہ گردش میں نظر آتا ہے۔ شاہ رخ ہِٹ کی تلاش میں ہیں، سلمان کی 'ٹیوب لائٹ' ناکام ہوئی، عامر خان اگرچہ قدرے مستحکم پوزیشن میں ہیں لیکن باقی دونوں کی طرح بڑھتی عمر کا جن اب ان کے قابو سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ تینوں خانز عمر کی 50 بہاریں دیکھ چکے ہیں۔

اس وقت سوال یہ ہے کہ بالی وڈ میں عامر، سلمان اور شاہ رخ کے عہد ساز دور کے بعد ہمارے سامنے کون سا ایسا اداکار ہے جو ان جیسے بھاری بھرکم اسٹار پاور کا مالک بن سکے؟ جس کی فلموں کی ریلیز پر دنیا پاگل ہوتی ہوئی دکھائی دے۔

فی الحال ہمارے سامنے رنبیر کپور اور رنویر سنگھ کے نام ہی سامنے آتے ہیں جو اپنی جگہ متاثر کن ہیروز ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ رنبیر کپور کو فلمی صنعت میں ایک دہائی کا عرصہ بیت چکا ہے مگر ماسوائے 'برفی' اور 'راک سٹار' کے ، ان کے کریڈٹ پر فلمیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بلکہ ان کو تو رنویر سنگھ نے ہی خاصی ٹکر دے رکھی ہے جو 'باجی راؤ مستانی' اور 'رام لیلہ' میں شاندار اداکاری کے ذریعے اپنا لوہا منوا چکے ہیں۔ تاہم رنویر کو ابھی خانز کے نقش قدم کو پانے کے لیے ایک ہمالیائی سفر طے کرنا ہوگا۔

رہے اکشے کمار تو وہ ابھی تک خانز جیسی معروفیت حاصل نہیں کرسکے، جبکہ ہریتھک روشن 'جودھا اکبر' کے بعد سے اب تک جدوجہد کے مرحلے میں ہی موجود ہیں، ہم یہاں شاہد کپور کو بھی فراموش نہیں کرسکتے مگر ان میں بھی سپر اسٹارز والی بات نظر نہیں آتی۔

آخر میں ایک مفروضاتی مگر دلچسپ بات پر اس بحث کو ختم کرتا ہوں کہ اگر آج 'انداز اپنا اپنا' کے سیکوئل میں سلمان اور عامر ایک بار پھر اسکرین پر جلوہ گر ہوجائیں، یا پہلی بار شاہ رخ اور عامر کا ٹکراؤ ایک فلم میں دیکھنے کو مل جائے، تو ان فلموں کا بزنس ریلیز سے پہلے ہی تمام سابقہ ریکارڈز پانی کی طرح بہا کرلے جائے گا۔ 

لہذا آج بھی بالی وڈ کے پاس ڈان کا کوئی متبادل نہیں ،آج بھی سلطانی اکھاڑے میں سلمان کے آگے کوئی دم مارنے کی مجال نہیں کرتا اور آج بھی حساس موضوعات پر کاملیت کے ساتھ اچھوتے طرز میں فلمیں پیش کرنے کا دنگل عامر کے سوا کوئی جیتتا دکھائی نہیں دیتا۔



جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Advertisement