Can't connect right now! retry
Advertisement

کھیل
05 دسمبر ، 2017

مکی آرتھر کی مخالفت کے باوجود سلیکٹرز احمد شہزاد کو ٹیم میں شامل کرنے کے خواہاں

قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کی مخالفت کے باوجود ٹیم سلیکٹرز نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے لیے ٹیم میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔

ماضی میں پاکستانی ٹیم انتظامیہ اوپنر احمد شہزاد کے بارے میں منفی رپورٹس دیتی رہی ہے اور اب مکی آرتھر بھی احمد شہزاد کو ٹیم میں شامل کرنے کے حق میں نہیں ہیں لیکن سلیکٹرز ان کی فارم کو دیکھتے ہوئے ان کی حمایت میں آگئے ہیں تاہم مکی آرتھر، وقار یونس کی طرح چاہتے ہیں کہ احمد شہزاد اپنی عادتوں کو تبدیل کریں۔

وقار یونس کے بعد مکی آرتھر بھی احمد شہزاد سے ناراض ہیں اور انہیں ٹیم سے باہر رکھنا چاہتے ہیں۔ 

نیوزی لینڈ کے خلاف پانچ ون ڈے اور تین ٹی ٹوئینٹی انٹر نیشنل کے لئے پاکستانی ٹیم کا اعلان اگلے دو سے تین دن میں کیا جائے گا۔

ان فٹ کرکٹرز اظہر علی، عماد وسیم اور فہیم اشرف مکمل فٹ ہو گئے ہیں اور سلیکشن کے لئے دستیاب ہیں۔

سلیکٹرز نے بابر اعظم کو اوپنر کی حیثیت سے کھلانے کی تجویز مسترد کردی ہے اس لیے احمد شہزاد کو ان کے نیوزی لینڈ میں تجربے کی بنیاد پر ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں اچھی پرفارمنس کے باوجود فاسٹ بولر سہیل خان اور وکٹ کیپر کامران اکمل کی پاکستانی ٹیم میں شمولیت کا کوئی امکان نہیں ہے۔

دبئی میں ٹی ٹین کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں کے وطن واپس پہنچنے کے بعد 23 دسمبر سے لاہور میں تین روزہ مختصر کیمپ لگایا جائے گا جس کے بعد

نیوزی لینڈ کے دورے کے لیے پاکستانی ٹیم 26 اور27 دسمبر کی درمیان شب لاہور سے براستہ دبئی آکلینڈ روانہ ہو گی۔

مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ مکی آرتھر اوپنر احمد شہزاد کے رویے سے ناخوش ہیں اور انہیں ٹیم سے باہر رکھنا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ احمد شہزاد نے حال ہی میں قومی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے اور اچھی فارم میں ہیں اس لئے احمد تیسرے اوپنر کی حیثیت سے ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں شمولیت کے مضبوط امیدوار ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قائد اعظم ٹرافی کے سپر ایٹ مرحلے میں سنچری بنانے والے اظہر علی نے نیوزی لینڈ کی ون ڈے سیریز کے لئے فٹ قرار دے دیئے گئے ہیں۔

آل راونڈر عماد وسیم نے گھٹنے کی تکلیف سے نجات حاصل کرنے کے بعد چار دن پہلے قومی اکیڈمی میں بیٹنگ اور بولنگ شروع کردی تھی۔

عماد وسیم کسی بھی ڈپارٹمنٹ سے نہیں کھیلتے اس لئے قائد اعظم ٹرافی میں وہ کسی بھی ٹیم کی نمائندگی نہیں کرسکتے۔ سلیکٹرز کو عماد کے بارے میں ڈاکٹروں نے حوصلہ افزا رپورٹ دی ہے تاہم انہیں چانچنے کے لئے ان کی نیٹ پر فٹنس پر انحصار کرنا پڑے گا۔

ایک اور آل راونڈر فہیم اشرف پنڈی میں قومی ٹی ٹوئینٹی ٹورنامنٹ کے دوران گروئن انجری کا شکار ہوئے تھے۔ فہیم کو بھی ڈاکٹروں نے فٹ قرار دے دیا ہے تاہم سلیکٹرز نے فہیم اشرف کو ہدایت کی ہے کہ وہ سپر ایٹ راونڈ کے دوسرے میچ میں اپنے ڈپارٹمنٹ حبیب بینک کی نمائندگی کریں۔

سرفراز احمد کی موجودگی میں کامران اکمل کو اسپیشلسٹ بیٹسمین کی حیثیت سے کھلانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ سہیل خان کو بھی ٹیسٹ ٹیم رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔

پاکستانی ٹیم انتظامیہ کے لیے اچھی خبر فاسٹ بولر عثمان شنواری کے بارے میں ملی ہے۔ ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ نوجوان اور مضبوط ہونے کی وجہ سے عثمان شنواری کی کمر کا اسٹریس فریکچر ٹھیک ہو رہا ہے اور امید ظاہر کی جارہی ہے کہ وہ اگلے تین ماہ میں مکمل فٹ ہوسکتا ہے۔

قبل ازیں ڈاکٹروں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ عثمان شنواری کو فٹ ہونے میں 8 ماہ لگیں گے۔ عثمان بھی قومی اکیڈمی میں فٹنس پر کام کررہے ہیں۔

Advertisement