Can't connect right now! retry
Advertisement

بلاگ
10 جنوری ، 2018

کتنی خبر، کتنا تجزیہ؟

اسلام آباد والی سہیلی گو مجھ سے عمر میں بڑی ہے مگر ہم دونوں میں بے تکلفی انتہا کی ہے۔ میں اس کی ذہانت اور رتبے کی ہمیشہ سے قائل رہی ہوں، وہ بڑے بڑے مسئلے منٹوں میں حل کرلیتی ہے اور اتراتی بالکل نہیں۔

اس میں صرف ایک خامی ہے ، وہ موڈی بہت ہے۔ دل ہو تو سارے راز فاش کر دیتی ہے اور اگر طبیعت میں تھوڑی سی بھی گرانی ہو تو لاکھ پوچھو ہونٹ نہیں کھولتی۔

اس بار فون کیا تو وہ بہت خوش اور مطمئن تھی، ملنے کو کہا تو فورا مان گئی اور کہنے لگی، 'آؤ گی تو پنڈی والی آپا سے بھی ملواؤ گی'، میری خوشی دوگنی ہو گئی کیونکہ میں ان کی بھی بہت بڑی فین تھی۔

میں دو دن بعد ملنے گئی تو دونوں بہنوں کو ایک ساتھ دیکھ کر حیران رہ گئی، میری سہیلی نے جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کردیا۔ویسے میری سہیلی اپنی آپا کا بہت احترام کرتی ہے، ہر بات میں مشورہ کرتی ہے مگر اپنی آزادی اور خودمختاری بھی اسے بہت عزیز ہے۔

آپا کم گو ہیں، صرف مطلب کی بات کرتی ہیں مگر میری سہیلی بولنے پر آئے تو رکتی نہیں۔کہنے لگی، 'ملک میں سیاست کے رنگ بدلتے رہے مگر ہمارے طور طریقے ویسے ہی رہے، جس کسی نے ہمیں تبدیل کرنے کی کو شش کی، اسے ہماری بے لوث محبت نے بدل دیا۔ ہر وزیراعظم کے ساتھ ہمارے تعلقات مثالی رہے ہیں۔ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے ادوار میں ہمارے کام کی نوعیت مختلف قسم کی تھی مگر جب قبلہ پرویز مشرف کا زمانہ آیا تو ہماری صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا گیا، ہم نے اپنے ضمیر کے مطابق کام کیا اور سیاستدانوں کا ضمیر بھی جگائے رکھا۔ محب وطن اکھٹے کیے اور ملک کی خوشحالی اور بہتری میں اپنا حصہ ڈالا'۔

میری سہیلی اور بولنا چاہتی تھی مگر میں نے ہمت کرکے اسے ٹوک دیا۔ مجھے ماضی سے کوئی خاص دلچسپی نہ تھی کیونکہ یہ باتیں میں پہلے بھی سن چکی تھی۔ میں نے کہا، 'آپ اسلام آباد میں رہتی ہیں، یہاں بہت گہما گہمی ہے ، افواہوں کا سیلاب آیا ہوا ہے، آپ اندر کی بات بتائیں کہ شہر اقتدار میں کیا چل رہا ہے؟'

میری سہیلی نے اپنی پنڈی والی آپا کی طرف دیکھا اور قدرے توقف کے بعد بولی، 'میری معلومات ناقص ہیں، اس لیے اپنا تجزیہ پیش کرتی ہوں، حالات ٹھیک نہیں ہیں، اس بار صورت حال خاصی پیچیدہ اور مختلف ہے۔ اداروں کو لڑانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایک بات طے ہے کہ الیکشن وقت پر ہوئے تو تحریک انصاف ملک کی اکثریتی جماعت ہوگی ورنہ قومی حکومت ہی ملک کو درپیش مسائل سے نکال سکتی ہے'۔

اپنی سب سے عزیز سہیلی کی بات سن کر میں حیران رہ گئی۔ میں نے پوچھا، 'مسلم لیگ (ن) کا کیا ہوگا؟' سہیلی زیر لب مسکرائی اور بولی، 'ان کا دوبارہ اقتدار میں آنا مشکل ہے، ملکی سطح پر ان کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے، صرف ختم نبوت والے مسئلے کی وجہ سے ان کا 15 لاکھ ووٹ کم ہوا ہے، مذہبی ووٹ بینک رکھنے والے رکن قومی و صوبائی اسمبلی پارٹی چھوڑ رہے ہیں جبکہ جنوبی پنجاب سے 25 اہم رہنما کسی بھی وقت اڈاری بھر سکتے ہیں۔ دوسرا پاناما کیس کی وجہ سے جو دھول اڑی ہے، نواز شریف اور اس کی پارٹی اتنی جلدی اس سے باہر نہیں آسکتے۔ حدیبیہ کیس نہیں کھل سکا تو کیا ہوا، ساری کسر باقر نجفی رپورٹ نے پوری کردی ہے۔ اس حکومت کے تابوت میں آخری کیل ڈاکٹر طاہر القادری ٹھونکیں گے اور یوں (ن) لیگ کا قصہ تمام ہو جائے گا'۔

یہ باتیں سن کر میرا تجسس بڑھ گیا اور حوصلہ کرکے ایک اور سوال پوچھ لیا، 'تحریک انصاف کیسے اکثریتی جماعت ہو سکتی ہے اور وہ حکومت کس طرح بنائے گی؟'

یہ سوال میری سہیلی کو قدرے ناگوار گزرا، اسے شاید لگا میں اس کی معلومات اور تجزیے کو چیلنج کر رہی ہوں ۔ وہ بہت جہاں دیدہ اور تجربہ کار تھی، لہذا خفگی چھپاتے ہوئے بولی، 'تحریک انصاف کی قوت بڑھ رہی ہے، وقت کے ساتھ ساتھ اور بڑے لوگ انصاف کے اس کارواں میں شمولیت اختیار کریں گے۔ تحریک انصاف پنجاب سے باآسانی 40 سے 45 نشستیں جیت لے گی، خیبر پختوانخوا سے اس کے حصے میں 20 کے لگ بھگ سیٹیں آئیں گی، فاٹا سے 7، بلوچستان سے 6، سندھ اور کراچی سے 7 اور اسلام آباد سے 2 نشستیں تحریک انصاف کی ہوں گی، یوں کُل ملاکر 80 سے زیادہ ارکان تحریک انصاف کے ہو جائیں گے اور اس کے بعد 25 سے 30 آزاد امیدوار بھی اپنا وزن پی ٹی آئی کے پلڑے میں ڈال دیں گے'۔

سہیلی کی یہ جمع تفریق دیکھ کر میری حیرت، میرے چہرے سے عیاں ہونے لگی تو وہ بولی 'پریشان مت ہو، باقی کا کام اتحادی کریں گے۔ پاک سرزمین پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کا اتحاد ایک دن ہو کر رہے گا اور وہ 20 سے زائد نشستیں جیت لیں گے۔ مسلم لیگ فنگشنل تو ہے ہی اقتدار کی جماعت، حکومت کسی کی بھی ہو وہ اس میں شامل ہو جاتی ہے۔ سندھ سے 6 سے 8 سیٹیں جیتنے کی وہ صلاحیت رکھتی ہے۔ اس اتحاد کو جماعت اسلامی، آفتاب شیر پاؤ، عوامی مسلم لیگ اور بلوچستان کی قوم پرست جماعتیں بھی رونق بخشیں گی اور یوں حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ نمبرز پورے ہو جائیں گے'۔

میں کچھ بولنے لگی تو میری سہیلی نے جلدی سے کہا 'اور ہاں اگر ضرورت پڑی تو مولانا فضل الرحمٰن دو وزارتیں لینے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں، مگر اس کی نوبت نہیں آئے گی'۔

'مولانا اور عمران خان کے ساتھ؟'، میں نے بے ساختہ کہا، جس پر سہیلی نے قہقہ لگایا اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی، 'ضروری نہیں کہ عمران خان سب کے لیے قابل قبول ہو، تحریک انصاف ایک شخص کا نام نہیں ہے، کسی اور پر بھی اتفاق ہو سکتا ہے'۔

میری حیرت آخری حد کو چھو چکی تھی، میں نے ایک بار پھر کچھ کہنا چاہا تو سہیلی بول پڑی، 'کیا تم ساری باتیں آج ہی کرو گی؟ کچھ اگلی ملاقات کے لیے بھی رہنے دو'۔

سہیلی کی گفتگو سن کر میرے چودہ طبق روشن ہو چکے تھے، میں نے اجازت مانگی تو آپا پہلی بار بولی، 'تمھاری سہیلی کا تجزیہ سن کر لگتا ہے اس بار وزیراعظم اپنا ہوگا'۔

میں آپا کی بات کا کوئی جواب نہ دے سکی، مسکرائی اور کمرے سے باہر آگئی۔ رات کے سائے بہت گہرے ہوچکے تھے۔ باہر بہت ٹھنڈ تھی مگر میرے کان ابھی تک سرخ تھے، میں صبح تک یہی سوچتی رہی کہ سہیلی کی باتوں میں خبر کتنی تھی اور تجزیہ کتنا تھا۔۔۔!



جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Advertisement