Can't connect right now! retry
Advertisement

دنیا
11 جنوری ، 2018

پاکستان کا سفر سوچ سمجھ کر کریں، امریکا کی شہریوں کو ہدایت

امریکا نے اپنے شہریوں کو ہدایات کی ہے کہ وہ پاکستان کا سفر کرنے میں احتیاط کریں اور اگر وہ سفر کی منصوبہ بندی کررہے ہیں تو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے غیر ملکی سفر میں موجود خطرات سے اپنے شہریوں کو آگاہ کرنے کے لیے چار پوائنٹس پر مشتمل ’’سیفٹی رینکنگ سسٹم‘‘ متعارف کرایا ہے۔

اس سسٹم میں خطرات کے حوالے سے ممالک کو مختلف کیٹیگریز میں رکھا گیا ہے۔

سفر کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ممالک کو لیول فور کیٹیگری میں رکھا گیا ہے، اس میں 10 ممالک کو شامل کیا گیا ہے اور انہیں جنگ زدہ قرار دیا گیا ہے۔

ان ممالک میں افغانستان، جمہوریہ وسطی افریقا، ایران، عراق، لیبیا، مالی، صومالیہ، جنوبی سوڈان، شام اور یمن شامل ہیں، امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان ممالک کا سفر نہ کریں۔

شمالی کوریا کو بھی لیول فور میں رکھا گیا ہے اور شہریوں کو بتایا گیا ہے کہ امریکی قانون شمالی کوریا میں امریکی پاسپورٹ کے استعمال کی ممانعت کرتا ہے یعنی عملی طور پر شمالی کوریا کا سفر کرنے پر پابندی عائد ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان کو لیول تھری میں رکھا ہے اور اپنے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ اگر وہ پاکستان کا سفر کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں تو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ’’امریکی شہری پاکستان کا سفر سوچ سمجھ کر کریں کیوں کہ وہاں دہشت گردی ہے، بعض علاقوں میں خطرہ زیادہ ہے، صوبہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، فاٹا اور آزاد کشمیر کا سفر نہ کریں‘‘۔

امریکا کی جانب سے جاری کی گئی ایڈوائزری پر بعض حلقوں نے حیرانی کا بھی اظہار کیا ہے کیوں کہ اس میں بڑے یورپی ممالک یعنی برطانیہ، فرانس اور جرمنی کو لیول ٹو کیٹیگری میں رکھا گیا ہے اور اپنے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان ممالک کا سفر اضافی احتیاط کے ساتھ کریں۔

ٹریول ایڈوائزری میں بھارت کو بھی لیول ٹو پر رکھا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ازبکستان کو لیول ون پر رکھا گیا ہے یعنی اس ملک کا سفر معمول کی احتیاط کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔

امریکا نے اس ایڈوائزری میں اپنے ملک کا تذکرہ نہیں کیا حالانکہ وہاں ایک لاکھ افراد پر مشتمل آبادی میں سالانہ قتل کی شرح 4.88 فیصد ہے جو اسے کیوبا (4.72 فیصد) اور صومالیہ (5.56 فیصد) کے درمیان لاتا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایڈوائزری پہلے سے موجود تھی بس انہیں نئے طریقے سے جاری کیا گیا ہے تاکہ امریکی شہری اپنے سفر کو بہتر طریقے سے پلان کرسکیں اور محفوظ رہ سکیں۔

امریکی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ کوئی سیاسی دستاویز نہیں بلکہ سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے امریکا کا اپنا اندازہ ہے۔

Advertisement