Can't connect right now! retry
Advertisement

بلاگ
12 جنوری ، 2018

سندھ پولیس کی نئی قیادت کو درپیش چیلنجز

وفاقی کابینہ نے حال ہی میں اے ڈی خواجہ (بائیں) کی جگہ سردار عبدالمجید دستی (دائیں) کو آئی جی سندھ بنانے کی منظوری دی ہے—۔

سزا اور جزا کا تصور ختم ہوجائے تو معاشرے تباہ ہوجاتے ہیں۔ زیادہ دور نہ جائیں، ماضی قریب میں چند سال قبل ملک بھر خصوصاً کراچی میں امن و امان کی خراب صورت حال اس بات کی واضح عکاس ہے۔

سول سروسز کے اہم شعبے پولیس کی اولین ذمہ داری شہریوں کو جرائم سے پاک معاشرہ فراہم کرنا اور عدالتوں کا کام انہیں انصاف فراہم کرنا ہے، لیکن بدقسمتی سے امن وامان کا معاملہ ہو یا شہریوں کو انصاف کی فراہمی، عدالتی فیصلے بھی اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پولیس کی تحقیقات اکثرو بیشتر کمزور رہتی ہیں اور وہ جرم ثابت کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں۔

گوکہ گزشتہ چند سالوں میں پولیس کے تفتیش اور تحقیق کے شعبے میں خاصی اصلاحات کی گئیں لیکن اب بھی اس میں بہتری کی خاصی گنجائش موجود ہے، سپریم کورٹ میں کراچی بد امنی کیس کی سماعت کے دوران یہ بات کئی مرتبہ سامنے آئی کہ سندھ میں محکمہ پولیس میں کرپشن، نااہل و سفارشی افسران اور سیاسی مداخلت بھی شہر میں امن و امان کی بہتری میں بڑی رکاوٹ رہی ہے۔

سپریم کورٹ کے احکامات پر کراچی پولیس میں بھی بڑے پیمانے پر کالی بھیڑوں کے خلاف مکمل نہیں تو کچھ نہ کچھ آپریشن کلین اپ ضرور کیا گیا، سابق سینئر پولیس آفیسر واجد علی درانی نے عدالت میں اس بات کا اعتراف کیا کہ سندھ پولیس میں سیاسی مداخلت کی جاتی ہے۔وجوہات جو بھی ہوں، اس تمام معاملے میں ذمہ داری بہرحال حکومتِ وقت پر عائد ہوتی ہے۔

اگر تعصب کی عینک اتار کر دیکھا جائے تو سندھ میں پولیس اصلاحات میں خاصی پیش رفت نظر آرہی ہے۔ موجودہ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ مختصر عرصے میں پولیس کے کئی امور میں کافی حد تک بہتری لائے ہیں، انہوں نے خاص طور پر پولیس کی اندرونی خامیوں پر توجہ مرکوز کی۔ ان کے دیگر اقدامات میں پولیس ملازمین کو سہولتوں کی فراہمی، تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافہ اور پولیس ویلفئیر فنڈ کے ساتھ ساتھ شہداء اور ملازمین کے بچوں کی تعلیم کے لیے خصوصی فنڈز کا قیام شامل ہیں۔

اے ڈی خواجہ کے ہی دور میں ایک طویل عرصے سے تاخیر کا شکار پولیس ملازمین کا ریکارڈ ترتیب دے کر کمپیوٹرائز کردیا گیا اور ان کی باقاعدہ ترقیوں کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔

تاہم آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو پولیس میں بھرتیوں اور تبادلوں و تقرریوں کے معاملے میں خاصی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا اور سیاسی مداخلت کی وجہ سے انہیں عہدے پر کام کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔اگرچہ عدالتی احکامات پر وہ عہدے پر کام تو کرتے رہے لیکن ان کے سر پر تلوار لٹکتی رہی۔ اس دوران انہوں نے کئی مرتبہ خود عہدہ چھوڑنے کی پیش کش بھی کی۔

اور پھر آخرکار حکومتِ سندھ وفاق سے  نئے آئی جی سندھ کے لیے سردار عبدالمجید دستی کا نام منظور کرانے میں کامیاب ہوگئی۔ پولیس گروپ میں گریڈ 21 کے آفیسر سردار عبدالمجید دستی اچھی شہرت کے حامل افسر رہے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خاصے سخت مزاج کے آفیسر ہیں، خصوصاً پولیس کے نظم وضبط پر کئی پوسٹنگز میں ان کی کارروائیوں کا خاصہ چرچا بھی رہا ہے۔ان کی آئی جی سندھ کے عہدے پر تقرری ایسے موقع پر ہورہی ہے جب انتخابی سیاست کا زور ہے اور ایسے وقت میں صوبائی حکومتوں سمیت اداروں کو روایتی پس منظر میں سیاسی مداخلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں میں ہمیشہ سے پولیس کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا ہے اور امن وامان کے قیام کے ساتھ ساتھ انتخابات میں پولیس کو سیاسی قوت کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے، خصوصاً مخالفین کو ڈرانے اور دھمکانےکے لیے ماضی میں پولیس بہترین آلہ کار کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔

اگرچہ نئے آئی جی کو کراچی میں امن و امان کے مسئلے پر خاصی حد تک ریلیف ملے گا لیکن انتخابات کے قریب سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر صوبے کے دیگر شہروں میں مخالفین کو دباؤ میں لانے کا عمل شروع ہوگا اور اس معاملے میں ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر پولیس کو استعمال کیے جانے کا خدشہ ہے۔

لہذا نئے آئی جی سندھ کو نہ صرف یہ بات مدنظر رکھنی ہوگی بلکہ اپنا دامن بھی بچانا ہوگا کہ کون کون سے افسران سیاسی پشت پناہی کی بنیاد پر تقرریاں لیتے ہیں اور آئندہ بھی تقرری کے خواہشمند ہوں گے۔ 

علاوہ ازیں پولیس کے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مکمل طور پر عوام کے مفاد کے لیے مزید طاقتور بنانے کی بھی ضرورت ہے، جبکہ شہری علاقوں میں اسٹریٹ کرائمز، گاڑیوں کی چوریاں اور پولیس گردی کو کنٹرول کیا جانا بھی ضروری ہے۔

بدقسمتی سے کئی واقعات میں اب جرائم پیشہ افراد کے ساتھ پولیس اہلکار، افسران اور ان کے اہل خانہ طاقت کے استعمال سے عام آدمی کو نقصان پہنچاتے نظر آرہے ہیں، اسی طرح طاقتور بااثر لوگ اور ان کے گارڈز غیرقانونی طریقوں سے عام شہریوں کو خوفزدہ کرتے نظر آتے ہیں جبکہ زمینوں پر قبضے، منشیات کی فروخت، پتھارے اور جرائم میں سہولت کاری کا عمل بھی ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

دوسری جانب پولیس افسران کھلی کچہریوں اور روزانہ گشت کے معمولات کو خاصی حد تک بھول چکے ہیں اور دیہی علاقوں میں بااثر زمینداروں کا مزارعوں پر ظلم و ستم، کاروکاری، غیرقانونی جرگے اور منشیات کی فروخت سمیت کئی جرائم اب بھی پولیس کے لیے چیلنج ہیں۔

اگر گزشتہ چند سالوں کا موازنہ کیا جائے تو سندھ پولیس نے خاصی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جس میں اسے پیراملٹری فورس رینجرز کی مکمل مدد بھی حاصل ہوئی ہے جبکہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہم کردار کے باعث صوبے میں دہشت گردی اور سنگین جرائم کے اہم ترین نیٹ ورکس بھی توڑ دیئے گئے۔

ان تمام کامیابیوں کو اداروں کی مشترکہ کامیابی ہی سمجھا جاتا ہے، جس میں یقیناً حکومتی اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ عوام کا بھرپور تعاون بھی شامل ہے۔ لیکن یہاں یہ بات نہایت اہم ہے کہ پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایماندار، بہادر اور مضبوط اعصاب کی حامل قیادت ہی اسے بہترین ادارہ بنا کر عوام کو ریلیف دے سکتی ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ سندھ پولیس کی نئی قیادت ان خصوصیات پر پورا اترے گی۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Advertisement