Can't connect right now! retry
Advertisement

پاکستان
14 جنوری ، 2018

کراچی سے ٹینکر مافیا کا خاتمہ اور اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کرواکر دکھائیں گے، چیف جسٹس

کراچی: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے پانی کی فراہمی کے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ مافیا کی باتیں سب کرتے ہیں مگر نام کوئی نہیں لے رہا، ہم کراچی سے ٹینکر مافیا کا خاتمہ کر کے دکھائیں گے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اتوار کو چھٹی کے روز بھی ڈبہ پیک دودھ کی فروخت کے از خود نوٹس سمیت ماحولیاتی آلودگی، پانی کی فراہمی اور کثیرالمنزلہ عمارتوں سے متعلق مقدمات کی سماعت کی۔

چیف سیکریٹری سندھ رضوان میمن، سیکریٹری صحت فضل اللہ پیچوہو ، ایم ڈی واٹر بورڈ ہاشم رضا زیدی، ایڈووکیٹ جنرل سندھ سمیت دیگر وکلا حکام سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں موجود تھے جب کہ عدالت کے طلب کیے جانے پر میئر کراچی وسیم اختر بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تمام حکام کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ چھٹی کے دن یہاں آئے، عوامی مفاد کا معاملہ ہے، سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

پانی کی فراہمی سے متعلق سماعت

پانی کی فراہمی سے متعلق سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ رپورٹس میں ہمیں مت الجھائیں، یہ بتائیں کہ اس شہر میں پانی کی کمی کیوں ہے، سیدھا بتایا جائے کہ منصوبے پر عمل کب ہوگا۔

ایم ڈی واٹر بورڈ ہاشم رضا زیدی نے عدالت کو بتایا کہ بہت سے علاقے کچی آبادیاں ہیں، جہاں لائنیں نہیں جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پانی کی کمی ٹینکرز سے کیوں پوری ہوتی ہے، چلیں پینے کے پانی کو چھوڑیں، استعمال کا پانی ٹینکرز سے کیوں پورا ہورہا ہے۔

اس موقع پر ایم ڈی واٹر بورڈ نے کہا کہ پانی کی طلب اور رسد میں فرق ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ذریعہ آپ ہی ہیں، خود پانی کی فراہمی کا انتظام کیوں نہیں کرتے، کیا ڈیفنس میں پانی کی فراہمی کا کوئی اپنا نظام نہیں۔

سندھ حکومت شہریوں کو پانی تک فراہم نہیں کر رہی، چیف جسٹس

چیف جسٹس نے کہا کہ ٹینکرز مافیا بن چکا، اربوں روپے کمائے جا رہے ہیں، سندھ حکومت شہریوں کو پانی تک فراہم نہیں کر رہی، وہ جھاکے والا دور گیا، اب ہم یہاں بیٹھیں ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ٹینکرز کے ٹھیکوں کے پیچھے کون ہے، غریبوں کو 4 ہزار روپے کے ٹیکے لگا رہے ہیں، مافیا کے اپنے مفادات ہیں، بااثر لوگ ٹینکرز بند نہیں ہونے دیں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مافیا کی باتیں سب کرتے ہیں مگر نام کوئی نہیں لے رہا، شہر سے ٹینکر مافیا کا خاتمہ کریں گے اور یہ بھول جائیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوگا۔

چیف جسٹس نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ذمہ داری ادا نہیں کر رہے تو عہدہ چھوڑ دیں، اگر اختیار نہیں یا ناکام ہیں تو کوئی بات نہیں، ٹینکرز مافیا سے نمٹنا ہمارا کام ہے، اگر وہ ہڑتال کریں گے تو ان سے ہم نمٹ لیں گے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے میئر کراچی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے مسائل حل کرنا آپ کی بھی ذمے داری ہے، آپ کی معاونت چاہیے جس پر سیاست نہیں بلکہ عوام کی بھلائی ہو۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگلے ہفتےآجائیں گے، آپ مسائل کا حل ہمارے سامنے رکھیں جس پر میئر کراچی وسیم اختر نے عدالت کو بتایا کہ شہر کے ڈھانچے کو درست کرنے کی ضرورت ہے، قبضے چھوٹوں نے نہیں بلکہ بڑوں نے بھی کیے۔ 

میئر کراچی وسیم اختر نے سپریم کورٹ کو یقین دلایا کہ وہ عدالت سے پورا تعاون کریں گے۔

واٹر کمیشن کا سربراہ تبدیل

سپریم کورٹ نے واٹر کمیشن کے سربراہ کو تبدیل کرتے ہوئے جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم کو واٹر کمیشن کا نیا سربراہ مقرر کردیا، جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم کے پاس توہین عدالت کے سوا سپریم کورٹ کے جج کے تمام اختیارات ہوں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ توہین عدالت کے اختیارات ریٹائرڈ جج کو نہیں دے سکتے، کسی نے واٹر کمیشن کے کام میں رکاوٹ ڈالی تو ٹرانسفر پوسٹنگ عدالت خود کرے گی۔

ناقص دودھ سے متعلق سماعت

ناقص دودھ سے متعلق سماعت شروع ہوئی تو ناظر نے اپنی رپورٹ عدالت کے روبرو پیش کی جس میں بتایا کہ گیا کہ متعدد مقامات پرچھاپے مارے اور ریکارڈ چیک کیا گیا جب کہ بھینسوں کو لگائے جانے والے ٹیکوں کے 39 پیکٹس ضبط کیے گئے ہیں۔

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ڈرگ انسپکٹر مارکیٹوں میں چھاپے ماریں اور بھینسوں کو لگائے جانے والے ٹیکے ضبط کریں جب کہ چیف جسٹس نے سیکریٹری صحت کو حکم دیا کہ ٹیکوں کو ضبط کرنے کا کام ڈرگ انسپکٹر کو دیا جائے اور ایف آئی اے، ڈرگ انسپکٹرز، ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیلرز کے اسٹاک کا جائزہ لے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھا جائے کہ مارکیٹوں میں یہ ٹیکے کتنی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

دودھ کمپنیوں کے جوابات داخل

ڈبوں میں ناقص دودھ کی فروخت سے متعلق مختلف کمپنیز نے جواب عدالت میں داخل کرادیے جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ دودھ اور ٹی وائٹنرز الگ الگ ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ٹی وی یا اخبارات پر اشتہارات میں واضح کریں کہ ٹی وائٹنرز دودھ نہیں اور آپ کو لکھ کر دینا ہوگا کہ یہ دودھ ہرگز نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ہر برانڈز کےدودھ کا جائزہ لیں گے جب کہ چیف جسٹس نے عدالتی معاون کو حکم دیا کہ ہر کمپنی سے 50 ہزار روپے لے کر معائنہ کرائیں، ڈبہ پیک دودھ کی پی سی ایس آئی آر خود معائنہ کرے۔

عدالت نے ڈبہ بند دودھ کا معائنہ کرا کے دو ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی جب کہ چیف جسٹس نے حکام کو ہدایت کی کہ جس کمپنی کا دودھ مضر صحت ہوا اس کا پورا اسٹاک اٹھا لیں، کمپنیاں خواہ کہیں کہ بھی ہوں، سب کا معائنہ کرایا جائے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چھٹی کے دن کیسز کی سماعت کے موقع پر عدالت کے اطراف پولیس اور رینجرز اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی۔

Advertisement

مزید خبریں :

Advertisement