’آزادی مارچ شروع 27 اکتوبر اور اسلام آباد میں 31 اکتوبر کو داخل ہو گا‘

October 09, 2019
ویب ڈیسک
 

Your browser doesnt support HTML5 video.


جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ) ف کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آزادی مارچ شروع 27 اکتوبر کو ہوگا لیکن اسلام آباد میں 31 اکتوبر کو داخل ہو گا۔

مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں پارٹی کی مرکزی قیادت نے شرکت کی۔ اجلاس میں آزادی مارچ کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں کارکنوں اور پارٹی رہنماؤں کو بلاوجہ پولیس کی جانب سے تنگ کرنے کے معاملے پر بھی غور کیا گیا اور اس حوالے سے تفصیلی حکمت عملی بھی ترتیب دی گئی۔ اجلاس میں آزادی مارچ کے مقام ڈی چوک کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ کارکنان پر امن طور پر 27 اکتوبر کو اسلام آباد کا رخ کریں، کارکنان کسی بھی منفی پروپیگنڈہ کا حصہ نہ بنیں ، اپنی تیاریوں کو تیز کریں۔ 

فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے حوالے سے اپنی سفارشات تیار کر لیں، احسن اقبال
 لیگی رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ بیمار ذہنیت کی سوچ اپوزیشن کو انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے— فوٹو: فائل 

ادھر مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت نے مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے حوالے سے اپنی سفارشات تیار کر لیں، حتمی فیصلہ پارٹی قائد نواز شریف کریں گے۔

 لیگی رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ بیمار ذہنیت کی سوچ اپوزیشن کو انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔ 

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی زیرصدارت ماڈل ٹاؤن میں پارٹی رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس میں مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے سفارشات تیار کی گئیں۔

اجلاس کے بعد پارٹی کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے میڈیا کو بریفنگ دی اور کہا کہ سفارشات تیار کر لی ہیں حتمی منظوری کیلئے شہباز شریف جمعرات کو نواز شریف سے ملیں گے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومتی وزراء آزادی مارچ کے بارے میں اشتعال انگیز بیانات دینے کی بجائے 2014 کے دھرنے کے متعلق اپنے بیانات دیکھیں۔

فضل الرحمان حکومت کیخلاف کیوں دھرنا دینا چاہتے ہیں؟

25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات میں مولانا فضل الرحمان سمیت کئی بڑے ناموں کو شکست ہوئی جس کے فوراً بعد جے یو آئی ف، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی و دیگر جماعتوں نے آل پارٹیز کانفرنس بلائی اور انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے شفاف انتخابات کا مطالبہ کیا۔

19 اگست 2019 کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) اسلام آباد میں ہوئی جس میں مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے قائدین شریک ہوئے۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کمر کے درد اور پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پارٹی دورے کے باعث اے پی سی میں شریک نہیں ہوئے۔

اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے حزب اختلاف کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب اس بات پر متفق ہیں ملک کو مختلف بحرانوں سے دوچار کردیا گیا ہے، اس وقت پاکستان کی سلامتی کو خطرہ ہے اور حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کے نتیجے میں ملک کو کئی بحرانوں کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاشی صورتحال انتہائی ابتر ہے، معاشی بدحالی سے روس ٹکرے ہوگیا اور ہمیں ایسے ہی حالات کا سامنا ہے، ملک میں قومی یکجہتی کا فقدان ہے، ملک کا ہر طبقہ پریشانی میں مبتلا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کل تک ہم سوچ رہے تھے، سری نگر کیسے حاصل کرنا ہے؟ آج ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ مظفر آباد کیسے بچانا ہے؟ عمران کہتا تھا مودی جیتے گا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوگا، موجودہ حکمران کشمیر فروش ہیں اور ان لوگوں نے کشمیریوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔

سربراہ جے یو آئی نے الزام عائد کیا کہ ہم عالمی سازش کا شکار ہیں اور ہمارے حکمران اس کا حصہ ہیں، جب تک میں کشمیر کمیٹی کا چیئرمین رہا تو کشمیر کو کوئی نہیں بیچ سکا لیکن میرے جانے کے بعد کشمیر کا سودا کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اے پی سی میں اتفاق کیا ہے کہ سب اکٹھے اسلام آباد آئیں گے اور رہبر کمیٹی ایک ہفتے میں چارٹر آف ڈیمانڈ دے گی تاکہ جب اسلام آباد کی طرف آئیں گے تو ہمارے پاس متفقہ چارٹر آف ڈیمانڈ ہو۔

فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ 26 اگست کو رہبر کمیٹی اور 29 اگست کو اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کی کانفرنس ہوگی، اپوزیشن آج سے حکومت کے خلاف تحریک کی طرف بڑھ رہی ہے، ان حکمرانوں کو ہٹانے کیلئے قوم ہمارا ساتھ دے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمارے لاک ڈاؤن میں عوام آئیں گے، انہیں کوئی نہیں اٹھا سکتا، ہمارے لوگ عیاشی کیلئے نہیں آئیں گے اور ہر سختی برداشت کرلیں گے۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے کھل کر مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شمولیت کا اعلان نہیں کیا تاہم دونوں جماعتیں مولانا کی اخلاقی حمایت کررہی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کہہ چکے ہیں کہ ان کی جماعت دھرنے کی سیاست اور اسلام کے نام پر سیاست کرنے کے خلاف ہیں تاہم اگر کچھ تحفظات دور ہوجائیں تو ان کی پارٹی مولانا کے دھرنے میں شامل ہوسکتی ہے۔