نواز شریف کی روانگی این آر او نہیں، مقدمات قائم رہیں گے، وزیراعظم

November 08, 2019
ارشد وحید چوہدری
 

Your browser doesnt support HTML5 video.



وزیر اعظم عمران خان نے حکومتی ترجمانوں کو نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کے معاملے پر نرم مؤقف رکھنے کی ہدایت کردی۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس ہوا جس میں ملک کی سیاسی و معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے ترجمانوں کو نواز شریف کی بیرون ملک روانگی پر نرم مؤقف رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف کی صحت یا علاج پر کوئی سیاست نہیں کریں گے، پہلے دن سے مؤقف ہے کہ سیاست کو انسانی صحت سے الگ رکھا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے ادارے آزاد ہیں، قومی احتساب بیورو (نیب) کے کہنے پر نواز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالا گیا، نیب کی سفارش پر ہی نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے گا، ہم اداروں کی آزادی و خودمختاری پر یقین رکھتے ہیں۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ آزادی مارچ سے متعلق معاملات مذاکراتی کمیٹی دیکھ رہی ہے، مذاکرات کے دوران سخت بیانات دینے سے گریز کریں۔

انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت میں استحکام آچکا، اب اپنے منشور پر مکمل عملدرآمد کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

واضح کر دوں کہ یہ بالکل این آر او نہیں ہے، نواز شریف واقعی بیمار ہیں، وزیراعظم

اجلاس میں بعض رہنماؤں نے وزیراعظم سے استفسار کیا کہ کیا نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دینا این آر او ہے؟  جس پر وزیراعظم نے کہا کہ ’یہ واضح کر دوں کہ یہ بالکل این آر او نہیں ہے، آپ ہر فورم پر این آر او کے تاثر کی نفی کریں‘۔

وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف واقعی بیمار ہیں ان سے ہمدردی ہے، نوازشریف کا نام علاج کے لیے ای سی ایل سے نکال رہے ہیں، این آر او تب ہو  اگر ان کے خلاف مقدمات کی حکومت پیروی نہ کرے، ان کے خلاف مقدمات موجود رہیں گے، صحتمند ہوکر انہیں ان کا سامنا کرنا پڑے گا، جب وہ صحت مند ہو جائیں گے تو سیاسی میدان میں لڑائی لڑیں گے۔

انتخابی دھاندلی پر عدالتی کمیشن بنا لیں یا پارلیمانی ہم تیار ہیں، وزیراعظم

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ انتخابی دھاندلی پر عدالتی کمیشن بنا لیں یا پارلیمانی ہم تیار ہیں، ہم نے چار حلقے کھولنے کا کہا تھا ہم سارے حلقے کھولنے کو تیار ہیں، مولانا نے کل کہا انہیں لاشیں چاہئیں، ہم جمہوری لوگ ہیں لاشیں ہم نہیں دیں گے، افراتفری پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

خیال رہے کہ نواز شریف کے بھائی اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی جانب سے وزارت داخلہ کو نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے ایک باضابطہ درخواست جمع کرائی گئی ہے۔

نواز شریف کا نام نیب کی درخواست پر ای سی ایل میں ڈالا گیا تھا اس لیے حکومت نیب سے مشاورت کرے گی اور قوی امکان ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں ان کا نام ای سی ایل سے نکال دیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف اور شہبازشریف اتوار کو قومی پرواز سے لندن جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف کے علاج کےلیے ہارلے اسٹریٹ کلینک میں تیاریاں شروع کردی گئی ہیں ، شریف فیملی کی نیویارک میں بھی ڈاکٹر سے بات ہورہی ہے۔