’مسلمانوں کو ایک خودمختار ریاست کے قیام کا راستہ دکھانے پر علامہ اقبالؒ کو خراج عقیدت‘

November 09, 2019
ویب ڈیسک
 

فوٹو: فائل

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے 142واں یومِ پیدائش کے موقع پر قوم کے لیے پیغام دے دیا۔

 وزیر اعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں لکھا کہ آج شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ کے یومِ پیدائش کے موقع پر پوری قوم اور ملت اسلامیہ مفکر اسلام کو بھرپور خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔

علامہ محمد اقبالؒ کی شخصیت نے ایسے وقت میں مسلمانان بر صغیر کو ایک آزاد اور خودمختار اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کا راستہ دکھایا جب وہ غلامی کے اندھیروں اور ہندو اکثریت کے ظلم و نا انصافی کا شکار ہو کر منزل کا سراغ کھو بیٹھے تھے۔

 آپ کے افکار نے مسلمانوں میں امید کی وہ شمع روشن کی جس کی روشنی سے منزل کا تعین ہوا اور بعد ازاں قائد اعظم محمد علی جناح کی عظیم قیادت میں برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے بے شمار قربانیاں دے کر دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اور خودمختار مسلم ریاست کا قیام ممکن بنایا۔

وزیر اعظم نے یومِ اقبالؒ کے موقع پر اپنے پیغام میں مزید لکھا کہ علامہ محمد اقبالؒ کے افکار عالمگیر حیثیت کے حامل ہیں، امت مسلمہ کو درپیش مختلف مسائل کی نشاندہی کرنے اور ساتھ ہی ان مسائل کا حل آپ کے شہرہ آفاق شعری مجموعوں اور کلام میں پنہاں ہے۔

عمران خان نے کہا کہ اقبال کا خودی کا تصور مسلمان کوبحیثیت مومن انفرادی اور اجتماعی طور پر اس قدر قوت بخشتا ہے جس کی بدولت دنیا میں عمل کے ذریعے فلاح اور ملت کو اقوام عالم میں سنہری مقام حاصل ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہمیں بحثیت قوم اور امت مسلمہ مختلف نوعیت کے چیلنجز درپیش ہیں، یہ شاعر مشرق کی دور اندیشی تھی جب انہوں نے ایسے انفرادی اور اجتماعی مسائل کی نشاندہی کی جن کا ہمیں موجودہ دور میں سامنا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ آپ نے دور جدید کے تقاضوں کو اجاگر کیا، جمہوری اقدار اور ترقی کے رہنما اصولوں پر عمل کرتے ہوئے فرد اور ملت کو معاشرے اور ریاست میں ہم آہنگی کے ذریعے مؤثر کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔

وزیر اعظم پاکستان نے لکھا کہ آج ہمیں علامہ محمد اقبالؒ کے افکار اور تصورات کی طرف نا صرف رجوع کرنے بلکہ ان پر مکمل طور پر عمل پیرا ہو کر اپنے سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل کا حل نکالنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے عظیم ملک کو ایک ایسی ترقی یافتہ اسلامی فلاحی ریاست بنائیں جو مسلم تہذیبی شناخت کو مزید پروان چڑھائے اور ان آفاقی حیثیت کی حامل اعلی ترین اخلاقی اقدار کا عملی نمونہ ہو جن کی بنیاد ریاست مدینہ میں رکھی گئی تھی۔