Can't connect right now! retry

پاکستان
13 مارچ ، 2018

جمہوری قوتیں غیر جمہوری قوتوں سے پہلی جنگ ہار گئیں،محمود اچکزئی

— فوٹو:فائل

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کو غیر جمہوری قوتوں کی فتح قرار دے دیا۔

 چیئرمین سینیٹ و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ  کے انتخابات کی باز گشت قومی اسمبلی میں بھی پہنچ چکی ہے اور اراکین قومی اسمبلی میں گرما گرم بحث ہوئی ہے۔

قومی اسمبلی میں اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ جمہوری قوتیں غیر جمہوری قوتوں سے پہلی جنگ ہار گئیں اور پاکستان کی بربادی کی بنیاد رکھ دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں زر اور زور کا استعمال ہوگا تو ملک کی بنیادیں ہل جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ آئین کے مخالفین کے خلاف بغاوت کی اجازت آئین دیتا ہے اور اب ہمیں گلی کوچوں میں نکلنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

محمود اچکزئی نے کہا کہ ضمیر بیچنے اور خریدنے والوں کو محب وطن اور نہ بیچنے والوں کو ملک دشمن کہا جارہا ہے جب کہ اس وقت آئین اور پاکستان خطرے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ رضا ربانی کی قربانی سے دو بدترین مخالف جماعتیں قریب آگئی ہیں۔

نعیمہ کشور

جمعیت علمائے اسلام (ف) کی رکن قومی اسمبلی نعیمہ کشور نے کہا کہ کل ہم نے یہاں بڑی دھوم سے جمہوریت کا جنازہ نکلتے دیکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے خلاف سب بولتے ہیں لیکن الیکشن کمیشن پر کوئی بات نہیں کرتا۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کہتا ہے ہمیں شواہد دیں، یہ ہمارا کام تو نہیں ہے لیکن الیکشن کمیشن کو ان سب واقعات کی تحقیقات کرنی چاہئیں۔

کیپٹن (ر) صفدر

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کی چھوٹی جنگ ہم ہار گئے لیکن اصل جنگ ہم ہارنے والے نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں آنے والے سی پیک کو بند کرنے والوں کے ہاتھوں میں آگئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قلعے کا جب بھی دروازہ کھلا میر صادق اور میر جعفر نکل آتے ہیں۔

صاحبزادہ طارق اللہ

جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی صاحبزدہ طارق اللہ کا کہنا تھا کہ سب سے غلیظ اور غیر شفاف طریقے سے سینیٹ الیکشن ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ایک داغدار جمہوری طریقے سے سینیٹ الیکشن ہوئے ہیں جس میں بھیڑ بکریوں کا میلہ لگایا گیا اور دولت مندوں کو میدان میں اتارا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جو حالات پیدا کیے گئے وہ سب کے سامنے ہیں، پہلے تو یہ خطرہ تھا کہ سینیٹ الیکشن ہی وقت پر نہیں ہوگا لیکن الیکشن ہوا اور پھر جو کچھ ایوان کے الیکشن میں ہوا وہ کیا ہوا، کیوں ہوا؟،سب کے سامنے ہے۔

طارق اللہ نے کہا کہ جن لوگوں نے پیسے کے بل بوتے پر ووٹ دیے ان پر لعنت بھیجتا ہوں اور یہ طریقہ کار انتہائی غلط ہے، اس سے ایوان بالا کا وقار مجروح ہوگیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز ہونے والے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف، پیپلزپارٹی، بلوچستان اور فاٹا کے آزاد سینیٹرز کے متفقہ امیدوار صادق سنجرانی 57 ووٹ لے کر چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے جب کہ ان کے مدمقابل ن لیگ کے راجہ ظفر الحق نے 46 ووٹ لیے۔

اپوزیشن اتحاد کے ہی امیدوار سلیم مانڈوی والا 54 ووٹ لے کر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے ہیں۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM