علی بیگم — کرم ایجنسی سے عام انتخابات میں حصہ لینے والی پہلی خاتون

پوری زندگی عوامی خدمت میں گزاری ہے، منتخب ہو کر مظلوم طبقے کو ان کا جائز حق دلاؤں گی، سابق سول سرونٹ علی بیگم

پارا چنار: پاکستان کے قبائلی علاقے فاٹا کی کرم ایجنسی سے پہلی بار ایک خاتون امیدوار علی بیگم نے عام انتخابات 2018 میں حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے الیکشن مہم کا آغاز کر دیا۔

پاراچنار میں انتخابی مہم کے آغاز کے موقع پر سابق سول سرونٹ علی بیگم نے کہا کہ 'انہوں نے پوری زندگی عوامی خدمت میں گزاری ہے اور منتخب ہو کر وہ مظلوم طبقے کو ان کا جائز حق دلائیں گی'۔

علی بیگم کا کہنا تھا کہ 'گذشتہ الیکشن میں بھی ہر طبقے کے لوگ مجھ سے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے رابطہ کرتے رہے مگر میں نے دوسروں کو موقع دیا، لیکن اب میں خود بھی ضرورت محسوس کرتی ہوں کہ اب عوام کے مسائل کے حل کے لیے میدان میں اترنے کی ضرورت ہے'۔

فوٹو/ بشکریہ علی افضل افضال—۔

سابق بیوروکریٹ نے بتایا کہ 'ان کے الیکشن لڑنے کا مقصد مظلوم طبقے کو ان کے جائز حقوق دلانا ہے'۔

علی بیگم کے مطابق 'الیکشن ہاروں یا جیتوں میں اپنا مشن جاری رکھوں گی اور  صحت، تعلیم، روزگار اور مواصلات سمیت علاقے کے لوگوں کے تمام مسائل کے لیے اقدامات اٹھاؤں گی'۔

اس موقع پر نامور شاعر منیر طوری اور علی اصغر نے علی بیگم کی کارکردگی پر اشعار پیش کیے اور قبائلی عمائدین حاجی گل اکبر، عابد حسین، محمد عالم جان اور دیگر عمائدین نے علی بیگم کو 'دختر کرم' اور 'فخر قبائل' کے خطابات سے نوازا۔

قبائلی عمائدین کا کہنا تھا کہ علی بیگم نے پوری زندگی عوامی خدمت میں گزاری ہے اور منتخب ہو کر وہ کرم ایجنسی کے عوامی مسائل کے حل کے لیے اقدامات اٹھائیں گی۔

علی بیگم کے مطابق مقامی لوگ ان کے جلسوں میں شریک ہوتے ہیں اور ان کی بات سنتے ہیں—.فوٹو/ بشکریہ علی افضل افضال

فاٹا میں مختلف شعبوں میں خواتین کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے، ایسے میں علی بیگم کا انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان امید کی ایک کرن ہے۔

علی بیگم نے پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرکے سول سروس میں قدم رکھا اور اب وہ ریٹائرڈ زندگی گزار رہی ہیں۔

جیو ٹی وی سے بات کرتے ہوئے علی بیگم نے بتایا کہ 1983 میں بطور پلاننگ آفیسر تعیناتی کے وقت بھی وہ پشاور کے سول سیکریٹریٹ میں واحد خاتون تھیں۔

جب ان سے انتخابی مہم پر لوگوں کے ردعمل کے حوالے سے سوال کیا گیا تو علی بیگم نے بتایا کہ 'مقامی لوگ ان کے جلسوں میں شریک ہوتے ہیں اور ان کی بات سنتے ہیں'۔

فوٹو/ بشکریہ علی افضل افضال—۔

علی بیگم نے بتایا کہ 'وہ جس ڈپارٹمنٹ میں بھی تعینات رہیں، انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے آواز اٹھائی'۔

انہوں نے بتایا کہ 'ان کی پلاننگ اینڈ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ میں تعیناتی کے وقت جب سابق وزیراعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے پارا چنار کا دورہ کیا تو انہوں نے مقامی افراد کے لیے 20 ملین روپے مختص کیے اور اُس وقت کے گورنر کو تجویز دی کہ اس سے لڑکیوں کے لیے ایک کالج تعمیر کیا جائے'۔

علی بیگم کے مطابق کرم ایجنسی میں اب خواتین کے 3 کالجز ہیں، جن میں سے 2 ڈگری کالجز پارا چنار اور سدا میں واقع ہیں جبکہ ایک انٹرمیڈیٹ کالج علی زئی میں واقع ہے۔ 

علی بیگم امن کی خواہاں ہیں اور چاہتی ہیں کہ ان کی کوششوں سے کرم ایجنسی اور فاٹا میں امن و امان کی فضا پروان چڑھے۔

فوٹو/ بشکریہ علی افضل افضال—۔