Can't connect right now! retry

بلاگ
06 جون ، 2018

62 اور 63 پر کون پورا؟

— فوٹو: ریحام خان آفیشل پیج 

حکومت ہو، سیاست ہو یا کوئی فرد ہو، ہمارا وطیرہ بن گیا ہے کہ میں فرشتہ ہوں اور دوسرا بے ایمان ہے، میں حلال کھاتا ہوں اور دوسرا حرام کھاتا ہے، میں صوم و صلوة کا پابند ہوں اور دوسرا مذہب سے بیزار۔

اسی طرح آج کل آئین کی شق 62 اور63 کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے کہ سیاستدان 62 اور 63 پر پرکھے جاتے ہیں اور جو بھی الیکشن لڑنے کا اہل ہے اس پر آئین کی یہ شق لاگو ہوتی ہے۔

میرے خیال میں یہ شقیں ہر پاکستانی پر لاگو ہوتی ہیں اور کسی دوسرے پر صادق اور امین نہ ہونے کا الزام لگانے سے پہلے انسان کوخود پر بھی نظر ڈال لینی چاہیے۔ یا یوں کہوں کہ پہلے اپنے گریبان میں بھی جھانک لینا چاہیے۔

ان دنوں عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان کی کتاب کا بہت چرچا ہے، کہا جارہا ہے کہ اس میں عمران خان پر ایسے ایسے الزامات لگائے گئے ہیں جو ان کی سیاسی زندگی اور خاص طور پر 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات پر بھی اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

ریحام خان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے دو ماہ تک اپنا نکاح چھپایا اس طرح وہ 62 اور 63 پر پورا نہیں اترتے، چلیں اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ عمران خان نے نکاح چھپایا اور اس طرح وہ صادق اور امین نہیں رہے تو پھر ریحام خان پر بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے کیوں کہ انہوں نے بھی اس نکاح کو خفیہ رکھا، وہ کیوں خاموش رہیں؟ جس نکاح پر عمران خان جھوٹا ہے تو پھر ریحام خان بھی جھوٹی ہیں۔

ریحام کو شاید اس بات کا احساس نہیں ہے کہ شادی انسان کا ذاتی معاملہ ہوتا ہے، کوئی بھی مرد یا عورت شادی کرکے ظاہر نہ کرنا چاہے تو دنیا کا کوئی قانون اسے جھوٹا یا مجرم قرار نہیں دیتا۔

ہاں یہ ضرور ہے کہ کسی بھی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار پر انتخابی فارم میں یا ہر اس فارم میں کہ جہاں شادی ظاہر کرنا لازمی ہوتو وہاں شادی ظاہر نہ کرنے پر کارروائی ہوسکتی ہے۔ دوسری صورت میں شادی ظاہر نہ کرنا کوئی جرم نہیں ہے لہذا یہ بات ہی فضول ہے کہ عمران خان کو نکاح چھپانے پر 62 اور 63 کی شق لاگو ہوجاتی ہے۔

اخباری اطلاع کے مطابق ریحام خان نے اپنی کتاب میں عمران خان پر ان کے کردار سے متعلق الزامات لگائے ہیں، اخباری اطلاعات کے مطابق ان الزامات میں عمران خان کے ایک خاتون سے ناجائز تعلقات بھی ہے۔

شاہ زیب خانزادہ نے ریحام خان سے صاف اور واضح الفاظ میں عمران خان ، وسیم اکرم اور دیگر پر الزامات کے بارے میں پوچھا تو وہ اس کی تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کیا۔

اگر یہ سچ ہے تو بہت افسوسناک صورت حال ہے، ریحام کو ایسی بات کرنے سے پہلے اپنے گرییان میں بھی دیکھنا چاہیئے لوگ ان سے بھی سوال کر سکتے ہیں کہ اگر وہ اتنی ہی سچی ہیں تو اپنے پہلے خاوند ڈاکٹر اعجاز رحمان سے طلاق کی وجوہات اور عمران خان سے شادی سے پہلے اپنی نجی زندگی کے بارے میں بھی بتائیں اور جو تصاویر منظر عام پرآئیں ان کی اصل کہانی سنائیں۔ 

وہ ان تصاویر کو کس طرح جھٹلا سکتی ہیں ؟ کتاب لکھنے والے کا یہ فرض ہے کہ جو بات کرے اس کا پس منظر بھی بیان کرے تاکہ پڑھنے والے کسی تذبذب کا شکار نہ ہوں اور ان پر بات پوری طرح آشکار ہو جائے۔ انصاف یہ کہتا ہے کہ اپنی بات بھی پوری طرح لکھی جائے۔

ریحام خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جو شخص اپنے صوبے میں نگران وزیراعلی کا انتخاب نہیں کرسکا وہ ملک کیا چلائے گا۔ اس طرح تو بلوچستان میں بھی ایسا ہی ہوا اور معاملہ الیکشن کمیشن میں چلا گیا، پنجاب میں بھی عمران خان نے ناصر کھوسہ کا نام دے کر یو ٹرن لیا تو وزیراعلی شہباز شریف بھی بے بس ہوگئے لیکن اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ نگران وزیراعلی کا انتخاب نہ کرنے سے کوئی مزید سیاست نہیں کرسکتا یا حکومت نہیں چلا سکتا۔

ریحام خان شاید نہیں جانتی کہ حکومتی امور ماہر وزیر چلاتے ہیں سربراہ تو پالیسی دیتا ہے اور اس پر عمل درآمد پر نظر رکھتا ہے۔

آخر میں یہی کہوں گا کہ ہر شخص منہ اٹھا کر 62 اور 63 کی بات کردیتا ہے، اگر آئین کی ان شقوں پر لوگوں کے انٹرویو شروع کردئیے جائیں تو شاید ہی کوئی اس پر پورا اترے۔ تجزیہ کار اور صحافی حضرات کا ماننا ہے کہ آئین کی شق 62 اور 63 پر تو صرف فرشتہ صفت ہی پورا اترسکتا ہے کسی عام انسان کے لیے ایسا بنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنرل ضیاء نے سیاستدانوں کو صادق اور امین کے جال میں پھنسانے کے لیے آئین میں ان شقوں کا اضافہ کروایا۔

آخر میں اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کروں گا کہ سیاست دانوں بشمول نواز شریف نے آئین سے اس آرٹیکل کو نکالنے کے بجائے اسے اپنے مخالفین کو پھنسانے کے لیے جاری رکھا اور اب وہ خود اس گڑھے میں گرنے کے قریب ہیں جو انہوں نے کھودا تو نہیں تھا لیکن اسے بند بھی نہیں کیا۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM