Can't connect right now! retry

سائنس و ٹیکنالوجی
05 دسمبر ، 2018

ہنگامی صورتحال میں انسانی جانوں کو بچانے کیلئے سیلف فلائنگ ڈرون پر کام جاری

سیلف فلائنگ ڈرون کی مدد سے بلند عمارتوں میں پھنس جانے والے افراد کو محفوظ کیا جاسکے گا—.فوٹو/ بشکریہ کیٹرز نیوز ایجنسی

آگ لگنے یا دیگر ہنگامی صورتحال کے دوران بلند عمارتوں میں پھنسے افراد چھلانگ لگانے کی کوشش کرتے ہیں جو اکثر جان لیوا ثابت ہوتی ہے لیکن جدید ٹیکنالوجی کی بدولت اس مشکل کا حل بھی ڈھونڈ لیا گیا ہے۔

برطانوی جریدے ڈیلی میل کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی کی مدد سے سیلف فلائنگ ڈرونز بنانے پر کام جاری ہے، جس کے ذریعے آگ لگنے کی صورت میں یا کسی اور ہنگامی صورتحال میں بلند عمارتوں میں پھنس جانے والے افراد کو محفوظ کیا جاسکے گا۔

یہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیزائن سے آراستہ نیٹ گارڈ ڈرون ہوگا، جسے آگ لگنے کی صورت میں ایک سگنل موصول ہوگا، جس پر یہ فوری طور پر باہر نکل جائے گا۔

جدید ٹیکنالوجی اور ڈیزائن سے آراستہ نیٹ گارڈ ڈرون—.فوٹو/ بشکریہ کیٹرز نیوز ایجنسی

اس میں جی پی ایس سسٹم بھی نصب ہوگا، جس کے ذریعے یہ ڈرون آگ لگنے والے مقام کو تلاش کرسکے گا۔

نیٹ گارڈ ڈرون کے چاروں اطراف 4 پاور پروپیلر نصب ہوں گے جب کہ درمیان میں جالی (net) لگی ہوگی۔

ڈیزائنرز کے مطابق یہ جالی پولیوریتھین کی کواڈرپل لیئر (quadruple layer) سے بنی ہوگی جو اتنی مضبوط ہے کہ ایک شخص کا وزن برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

 ساتھ ہی اس میں ایواکیو سینسرز (evacuee sensors) بھی شامل ہوں گے، جس کی مدد سے فرد جس سمت میں چھلانگ لگانے کے لیے کھڑا ہوگا، ڈرون بھی اُسی ڈائریکشن میں جائے گا، تاکہ صارف آسانی سے چھلانگ لگا لے۔

نیٹ گارڈ ڈرون کو چین کی گوئنگ ڈونگ پولی ٹیکنیک نارمل یونیورسٹی کے شعبہ اسکول آف الیکٹرونک انجینئرنگ آرٹ کے 6 طلباء پر مشتمل ایک گروپ نے ڈیزائن کیا ہے جنہیں گولڈن پن کانسیپٹ ڈیزائن ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM