Can't connect right now! retry

جاپان کی پہلی خاتون فوٹو جرنلسٹ 101 سال کی عمر میں بھی فعال

ساساموتو نے 100 سال کی عمر میں اپنی تصویروں کی نمائش کا انعقاد کیا۔ فوٹو کریڈٹ : ساساتو کاواساکی 

ٹوکیو: جاپان کی مشہور فوٹو گرافر سنیکو ساساموتو  کی عمر اب 101 سال ہو چکی ہے لیکن ان کا شوق اور جذبہ اب بھی جوان اور جاری و ساری ہے۔

سنیکو ساسا موتو کو جاپان کی پہلی فوٹو جرنلسٹ کہا جاتا ہے، انہوں نے 25 سال کی عمر سے فوٹوگرافی شروع کی اور ان کا یہ شوق اب تک ان کے ساتھ ہے۔

سنیکو ساساموتو نے 70 سال کی تاریخ کو کیمرے کی آنکھ سے قید کیا ہے، انہوں نے جاپان کو جنگ سے پہلے اور جنگ کے بعد کے دور میں تصویروں میں بند کر دیا۔

ان کے کیمروں سے محفوظ کردہ تصاویر میں جاپان کو اجتماعی ریاست سے معاشی سپر پاور بنتے اور اس دوران ہونے والی معاشرتی تبدیلیوں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

2011 میں ساساموتو نے 97 سال کی عمر میں اپنی تصویروں پر مشتمل ایک کتاب 'ہیاکوسے نو فاؤنڈر' شائع کی اور 100 سال کی عمر میں اپنی تصویروں کی نمائش کا انعقاد بھی کیا۔

اب ساساموتو اپنے ایک حالیہ پراجیکٹ پر کام کر رہی ہیں جس کا نام 'ہانا اکاری' یا فلاور گلو ہے، یہ ان کے دنیا سے گزر جانے والے دوستوں سے محبت کا اظہار ہے۔

 ان کا بایاں ہاتھ اور دونوں ٹانگیں گزشتہ سال ایک حادثے میں ٹوٹ گئیں تھیں اس کے باوجود وہ اپنا یہ پراجیکٹ مکمل کرنے میں مگن ہیں۔

اپنی سالگرہ پر پیغام دیتے ہوئے ساساموتو نے کہا کہ 'آپ کو کبھی بھی سست نہیں پڑنا چاہیے، بہت ضروری ہے کہ آپ اپنی زندگی کے بارے میں مثبت رہیں اور کبھی ہار نہ مانیں، تبھی آپ آگے بڑھ سکیں گے'۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM