Can't connect right now! retry

پاکستان
17 جولائی ، 2019

ہڑتالوں سے ڈر کر پیچھے ہٹنے کا مطلب ملک سے غداری ہوگی، وزیراعظم


اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ  اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ہڑتالوں سے ڈر کر پیچھے ہٹ جاؤں گا تو وہ سمجھ لے میں پیچھے نہیں ہٹوں گا اور میرا پیچھے ہٹنے کا مطلب ملک سے غداری ہوگی۔

گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تقریبِ تقسیم انعامات سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے ووٹ لینے کیلئے اسلام کی بات نہیں کی بلکہ میں نے الیکشن جیتنے کے بعد ریاست مدینہ کی سب سے زیادہ بات کی۔ 

انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست کے اہم اصول میں رحم ، عدل و انصاف اور کمزوروں کی داد رسی شامل تھی لیکن آج اربوں روپے کی چوری کرنے والوں کو جیل میں ائیر کنڈیشن مل رہا ہے اور جو چھوٹی چوری کرتا ہے، سب کو پتا ہے اس کے ساتھ جیل میں کیا سلوک ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میری باہر کوئی جائیداد اور کاروبار نہیں، میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے، میں ان کی طرح نہیں جو اربوں روپیہ باہر لے گئے، ان کے مفادات کچھ اور ہیں، جب روپیہ گرتا ہے تو ان لوگوں کی دولت بڑھ جاتی ہے، ان کے رشتہ دار جن پر کیسز ہیں سب باہر ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جہاں ہم آج ہیں آگے ایسے نہیں چل سکتے، پاکستان کا 70 فیصد ٹیکس 300 کمپنیاں دیتی ہیں اور سروس سیکٹر ایک فیصد ٹیکس دیتا ہے، لوگ سمجھتے ہیں کہ ایف بی آر ایسا ادارہ ہے جس میں پیسے چوری ہوتے ہیں اور لوگوں کو ایف بی آر پر اعتماد نہیں، ایف بی آر میں اصلاحات کرنے جارہے ہیں۔

تاجروں کی شٹر ڈاؤن ہڑتال سے متعلق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کوئی سمجھتا ہے کہ ہڑتالوں سے میں پیچھے ہٹ جاؤں گا تو وہ سمجھ لے میں پیچھے نہیں ہٹوں گا، برائے مہربانی سمجھ لیں میرا پیچھے ہٹنے کا مطلب ملک سے غداری ہوگی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ٹیکس کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، اگر لوگ سمجھتے ہیں کہ جیسے پہلے ہوتا رہا ویسے ہی چلتا رہے تو ایسا نہیں ہوسکتا، ہم نے سب کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے کیوں کہ 22کروڑ لوگوں میں صرف 15 لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں، اگر ہم تھوڑا تھوڑا بھی ٹیکس دیں تو اتنا پیسہ آجائے گا کہ قرض کی دلدل سے نکل جائیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم تاجروں ،صنعت کاروں کیلئے آسانی پیدا کررہے ہیں، افغانستان سے اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے بات چیت چل رہی ہے اور اسمگلنگ روکے بغیر انڈسٹری آگے نہیں بڑھ سکتی، اگر انڈسٹری نہیں چلے گی تو ملک پر جو قرضہ چڑھایا گیا وہ کیسے ادا ہوگا؟

انہوں نے کہا کہ اگلے سال کیلئے ساڑھے 5 ہزار ارب روپے اکٹھے کرنے ہیں، صنعت کاروں کے تمام مسئلے حل کریں گے، 60 کی دہائی میں حکومت نے صنعتکاروں کی مدد کی تو پاکستان خطے میں آگے آیا تھا۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM