Can't connect right now! retry

کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ایندھن بنانے والی نئی ٹیکنالوجی متعارف

فائل فوٹو

گزشتہ دنوں امریکی ماہرین نے ایک نئی ٹیکنالوجی وضع کی ہے جس کے تحت ماحول دشمن اور عالمی تپش کی وجہ بننے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کو مائع ایندھن میں آسانی سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

ماہرین کاکہنا ہے کہ اگر یہ طریقے کار تجارتی پیمانے پر کامیاب ہوجاتا ہے تو یہ کیمیائی صنعتوں پر بھی انقلابی اثرات مرتب کرے گا۔

اس ٹیکنالوجی میں فارمک ایسڈ تیار ہوتا ہے جس کو متعدد کاموں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ہیوسٹن میں واقع رائس یونیو رسٹی کےماہرین  نے اس طر یقے کو تیار کیا ہے۔

اس نئ طر یقے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ روایتی تدابیر سے ہٹ کر ہے جو عام طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ ختم کرنے کے لیے نمک کے محلول جیسے مائع الیکٹرو لائٹ استعمال کیے جاتے ہیں۔

بعدازاں نمکیات میں توانائی جمع کی جاتی ہے لیکن اس عمل میں فارمک ایسڈ کا گاڑھا سوپ بن جاتا ہے۔

نئی ٹیکنالوجی میں مائع کی جگہ ٹھوس الیکٹرولائٹ استعمال کیے گئے ہیں، جس میں بسمتھ نامی دھات سر فہرست ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بڑی مقدار میں ایندھن میں بدلا جاسکتا ہے ۔

ابتدا ء میں جو تجربات کیے گئے ان میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں ایندھن کی شر ح 42 فی صد تک حاصل کی گئی ہے ۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM