Can't connect right now! retry

پاکستان
09 اکتوبر ، 2019

عدالت نے آزادی مارچ اور دھرنا روکنے کی درخواست قبل از وقت قرار دے دی

احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے مگر اس احتجاج سے دوسرے شہری متاثر نہ ہوں، اس وقت مفروضے پر کوئی فیصلہ نہیں دے سکتے: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے ریمارکس— فوٹو: فائل/ جے یو آئی آفیشل

اسلام آباد ہائیکورٹ نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ اور دھرنا روکنے کی درخواست کو قبل از وقت قرار دے دیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں شہری حافظ احتشام کی جانب سے دائر  جے یو آئی (ف) کا آزادی مارچ روکنے کی درخواست پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی۔  

سماعت کے دوران درخواست گزار حافظ احتشام نے کہا کہ فیض آباد دھرنا ازخود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی احتجاج کیلئے ایک جگہ مختص کرنے کا فیصلہ سنایا ہے۔

اس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آپ کی درخواست قبل از وقت ہے کیونکہ ابھی تک دھرنے والوں نے اجازت نہیں مانگی، نہ ہی کوئی خلاف ورزی کی،  احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے مگر اس احتجاج سے دوسرے شہری متاثر نہ ہوں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ اس وقت مفروضے پر کوئی فیصلہ نہیں دے سکتے، اگر احتجاج کرنے والے اجازت نہیں لیتے تو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ خود اس معاملے کو دیکھیں گے، اجازت کے بغیر کوئی نہیں آسکتا اور لاء اینڈ آرڈر کو دیکھنا بھی حکومت کا کام ہے۔ 

درخواست گزار نے عدالت سے وکیل کرنے کی استدعا کی جسے منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی گئی۔

یاد رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے حکومت کے خلاف 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کا اعلان کررکھا ہے جس کے بعد ملک میں سیاسی گرما گرمی بڑھ گئی ہے۔

آزادی مارچ کے اعلان کے بعد تحریک انصاف کے وفاقی و صوبائی وزراء اور جے یو آئی کے رہنماؤں کے درمیان تندوتیز بیانات کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM