کراچی کا پرنس سینما: کیا سے کیا ہو گیا دیکھتے دیکھتے

جون 1974 سے 2011 تک لاتعداد فلمیں پرنس سینما کی اسکرین کی زینت بنیں جس میں زیادہ تعداد انگریزی کی تھی.

گزشتہ ماہ پاکستان میں سینما انڈسٹری کے حوالے سے ایک اور افسوسناک خبر یہ سامنے آئی کہ شہر کی معروف و مصروف شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر قائم پرنس سینما مسمار کرکے اس کی جگہ رہائشی اور تجارتی مرکز قائم ہونے جا رہا ہے۔

اگرچہ پرنس سینما کافی عرصے سے بند تھا مگر 21 ستمبر 2012 کو مشتعل مظاہرین کے ہاتھوں نذرآتش ہونے کے بعد سے کسی بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہا تھا تاہم وہ لوگ جو اس سینما کے شاندار ہال میں متعدد فلموں سےلطف اندوز ہوئے انہیں اس کی بحالی کی موہوم سی امید تھی ۔

ایک زمانہ تھا جب شہر کی مصروف ترین شاہراہ ایم اے جناح روڈ فلم بینی کے شائقین کےلیے مرکز تصور کیا جاتا تھا جس کی وجہ اس پر اور اس کے اطراف میں ایک زمانے میں اردو، پنجابی، پشتو اور انگریزی فلموں کےلیے کم و بیش 20 کے قریب سنیما قائم تھے۔

ایک سنیما کے باہر کا منظر


پرنس سنیما کے باہر کا منظر

ان سینماؤں میں کیپری، پرنس، نشاط، ناز، تاج محل، لائٹ ہاؤس، رٹز، کوئن، کنگ، محفل، انجمن، نگینہ، میجسٹک، پلازہ جب کہ اطراف میں بمبینو، لیرک، اسکالا، اسٹار، ایروز، نشیمن، جوبلی، افشاں ریوالی اور قیصر وغیرہ قائم تھے۔

تاہم گزرتے وقت کے ساتھ اب اس مرکزی شاہراہ پر صرف کیپری عوام کو تفریح فراہم کررہا ہے جب کہ دوسرا نشاط 21ستمبر 2012 کے واقعے کے بعد سے تباہ حال میں نظر آتا ہے۔

نشاط سنیما کا تباہی کے بعد کا منظر — فوٹو دی نیوز آن سنڈے

کراچی میں سینما گھر کی تاریخ ایک صدی پر محیط ہے۔ ایم اے جناح روڈ کے نزدیک قائم اسٹار سینما کا قیام 1970 میں ہوا جب کہ قیام پاکستان کے بعد قائم پہلا سینما جوبلی کو کہا جاتا ہے جس کا افتتا ح 18 ستمبر1947 کو ہوا تاہم اب یہ دونوں شاپنگ پلازے میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

50، 60 اور 70 کی دہائی شہر کراچی پاکستان فلم انڈسٹری کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔

ایک اندازے کے مطابق اس دوران 100 سے زائد سینما عوام کو معیاری تفریح فراہم کر رہے تھے۔ پھر ستر کی دہائی کے آخر میں ملکی صورتحال تبدیل ہوئی تو اس بدلتے نظام کے ساتھ ہی ہماری کئی چیزیں انحطاط پزیری کا شکار ہوئیں۔ جس میں سے ایک فلم انڈسٹری کا بحران ہے اور جیسے جیسے فلمی معیار گرتا رہا لوگ فلم بینی سے دور ہونا شروع ہوئے تو رفتہ رفتہ ملک بھر کے ساتھ معاشی حب کراچی کے سینما گھر بھی ایک ایک کرکے شاپنگ سینٹرز اور رہائشی پلازوں میں تبدیل ہوگئے۔

شہر کے پرانے باسی خصوصاً جنہوں نے گزشتہ 70 دہائیاں کراچی میں بسر کیں اور تفریح طبع کےلیے خاص طور پر فلم بینی کرتے ہوئے اپنا وقت گزارا۔ وہ جانتے ہیں کہ پرنس سینما کا شمار شہر ہی کے نہیں ملک کے بھی خوبصورت سینما میں ہوتا تھا۔ جہاں خاندان بھر کے لوگ خاص طور پر فلم دیکھنے کےلیے آتے تھے۔

پریس سنیما کی سالوں پرانی ایک تصویر
پریس سنیما کی عمارت توڑنے کے بعد کا منظر

پرنس سینما کا افتتاح

چودہ جون 1974 کو روزنامہ جنگ میں خبر شائع ہوئی جس کے مطابق مورخہ 15جون 1974 بروز جمعہ کو شہر میں دو سینما پرنس اور عرشی کا افتتاح ہورہا ہے۔ پرنس میں انگریزی فلم "سباتا اور عرشی" میں اردو فلم "پردہ نہ اٹھاؤ" ریلیز کی جارہی ہے۔

پرنس سینما گنجائش اور خوبصورتی کے اعتبار سے پورے پاکستان میں اپنی مثال آپ ہے جب کہ کہ عرشی سینما بھی آسائش و زینت میں باقی دوسرے سینما میں سبقت رکھتا ہے۔

پرنس سینما اس وقت کا جدید سینما تھا۔ 1100 نشستوں پر اس میں 92فٹ کی عظیم ترین ویسٹاراما روشن اسکرین، 36 اسپیکر ایسٹرو فونک اور جدید ترین سائونڈ سسٹم، 186 ٹن وزنی آئس کول ائیرکنڈیشنگ، مکمل طور پر ائیرکنڈیشنگ، کیفے ٹیریا اور دل کش فوارہ موجود تھے۔

پہلی فلم کتنا عرصہ چلی؟

پریس سنیما میں دکھائی جانے والی پہلی فلم کا پوسٹر

پندرہ جون 1974 کو ریلیز ہونے والی پہلی فلم انگریزی "سباتا" تھی جو تقریبا دو ماہ سینما میں دکھائی جاتی رہی۔ سینما میں روزانہ ساڑھے تین، شام ساڑھے 6 اور شب ساڑھے 9 سمیت تین شو دکھائے جارہے تھے۔ 

28ستمبر 1974 سے سینما میں روزانہ 12 بجے دوپہر ایک خصوصی شو کا آغاز کیا گیا۔ جس میں پاکستانی فلم انڈسٹری کی کامیاب یادگار فلمیں دکھانے کا اہتمام کیا گیا۔

پہلی فلم پاکستانی سپرہٹ "امراؤ جان ادا" تھی۔ حسن طارق کی ہدایت میں بنائے جانے والی فلم کے مرکزی کردار میں اداکارہ رانی اور شاہد تھے۔ معیاری سینما ہونے کے سبب فلم کے اکثر شو ہاوس فل جاتے تھے۔

آخری فلم کونسی تھی؟

سینما میں آخری فلم 2012 میں اداکارہ زیبا بختیار کی فلم بابو تھی۔ مجموعی طور پر جون 1974 سے 2011 تک لاتعداد فلمیں پرنس سینما کی اسکرین کی زینت بنیں جس میں زیادہ تعداد انگریزی کی تھی۔