Can't connect right now! retry

کورونا وائرس آنکھوں کے ذریعے بھی جسم میں داخل ہو سکتا ہے: تحقیق

کورونا وائرس انسان کے جسم میں موجود 'اے سی ای 2 ریسیپٹر' کو نشانہ بناتا ہے اور یہ اے سی ای 2 ریسیپٹر آنکھوں میں موجود ہوتے ہیں: تحقیق. فوٹو: فائل

عالمی وبا کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور  اس کے خاتمے سے متعلق دنیا بھر میں سائنسدان دن رات تحقیقات کر رہے ہیں اور  اس حوالے سے  آئے روز  ایک نئی پیشرفت بھی سامنے آ رہی ہے۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق حال ہی میں سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ یہ وائرس آنکھوں کے ذریعے بھی جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔

امریکا کی جونز ہاپکنز یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی جانب سے ایک تحقیق کی گئی جس میں انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اگر کورونا وائرس سے متاثرہ شخص کی چھینک یا کھانسی میں سے نکلنے والے قطرے کسی دوسرے شخص کی آنکھوں میں جا گریں تو اس سے اس شخص کی آنکھوں کے ذریعے سے وائرس جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔

سائنسداوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس انسان کے جسم میں موجود 'اے سی ای 2 ریسیپٹر' کو نشانہ بناتا ہے اور یہ اے سی ای 2 ریسیپٹر آنکھوں میں موجود ہوتے ہیں۔

تحقیق کے بعد سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کا علاج کرنے والے ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کو وائرس کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے ناصرف ماسک، دستانے اور حفاظتی لباس پہننا چاہیے بلکہ اب انہیں خاص چشمے کا استعنال کرنا بھی ضروری ہے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM