Can't connect right now! retry

پاکستان
24 ستمبر ، 2020

شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کیخلاف اپیل میں حکومت کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا مسترد

سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیل میں حکومت کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔

بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیے کہ پہلے ثابت کریں کہ درخواست قابل سماعت ہے، آرٹیکل 211 کے تحت جوڈیشل کونسل کی رپورٹ چیلنج نہیں ہوسکتی۔

جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان نے کہا کہ رجسٹرار اعتراضات کالعدم قرار دینے کے حکم میں درخواست قابل سماعت ہونے کا تاثر ہے جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اعتراضات کالعدم قرار دینے کے حکم میں آرٹیکل 211 کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کیس کے تفصیلی فیصلے میں آرٹیکل 211 کی تشریح ہوگی۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ عدالت کی اس نقطے پربھی معاونت کریں کہ آئین نے برطرف جج کو اپیل کا حق کیوں نہیں دیا؟

جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں ججز برطرفی میں پارلیمان کا کوئی کردار نہیں، بھارت میں ججز برطرفی میں پارلیمان کے کردار کی وجہ سے کھچڑی پک گئی ہے، جنہیں آپ نوٹس جاری کرنے کا کہہ رہے وہ یہاں موجود ہیں، برطرفی کے فیصلے کو بدنیتی پرمبنی یا اختیار سے تجاوز ثابت کریں۔

عدالت نے مزید سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا۔

یاد رہے کہ جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔

اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM