تصاویر: 2020 کے بہترین وائلڈلائف فوٹوگرافر کا ایوارڈ کس نے جیتا؟

لندن کے نیشنل ہسٹری میوزیم میں56 ویں وائلڈ لائف فوٹوگرافرآف دی ایئر ایوارڈ کے انتخاب کے لیے آن لائن تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

جنگلی حیات کی تصاویر اتارنا ایک ایسا فن ہے جو تیکنیک کے ساتھ ساتھ فوٹوگرافرکے صبر اور خوش قسمتی کا بھی حسین امتزاج کہلاتا ہے کیونکہ ایک خوبصورت اور منفرد جنگلی حیات کی تصویر اتارنے کے لیے فوٹوگر افر کو کتنا عرصہ صبر کرنا پڑے گا اس کا پہلے تعین نہیں کیاجاسکتا اور نہ ہی یہ بتایا جاسکتا ہے کہ تصویر اتارے جانے کے بعد کتنی مقبولیت حاصل کرے گی کیونکہ اس کا انحصار بھی فوٹوگرافر کی تیکنیک کے ساتھ ساتھ خوش قسمتی پر ہے۔

فوٹوگرافی میں یہ تمام خصوصیات روسی فوٹوگرافر سرگئی گورشکوو کی درخت سے بغل گیر سائبرین ٹائیگر کی لی گئی تصویر میں بخوبی موجود نظر آئیں۔ یہی وجہ ہے کہ قسمت کی دیوی ان پرایسی مہربان ہوئی کہ سال کا ’’وائلد لائف فوٹوگرافر آف دی ایئر ایوارڈ’’فوٹوگرافر نے اپنے نام کرلیا۔

رواں ہفتے لندن کے نیشنل ہسٹری میوزیم میں56 ویں وائلڈ لائف فوٹوگرافرآف دی ایئر ایوارڈ کے انتخاب کے لیے آن لائن تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں بطور مہمان خصوصی برطانوی شہزادی کیٹ مڈلٹن نے روسی فوٹوگرافر سرگئی گورشکوو کو ’’فوٹوگرافر آف دی ایئر ایوارڈ‘‘ سے نوازا۔

واضح رہے کہ یہ دوسرا موقع ہے جب برطانوی شہزادی نے اس ایوارڈ کا اعلان کیا۔ اس سے قبل 2014 میں بھی کیٹ مڈلٹن نے وائلڈ لائف فوٹوگرافر آف دی ایوارڈ کا اعلان کیا تھا۔

مقابلے میں ایوارڈ یافتہ تصویر روس کے مشرق بعید میں واقع گھنے جنگلات میں اتاری گئی ہے جس میں مادہ سائبیرین شیر (جسے امور بھی کہا جاتا ہے) کو لیو پرڈ نیشنل پارک کے ایک درخت کے تنے کے ساتھ اپنے گال رگڑے دیکھا جاسکتا ہے جو اس بات کا اظہار کررہا ہے کہ جنگل کا یہ حصہ اس ٹائیگر کی ملکیت بن چکاہے۔

© Sergey Gorshkov / Wildlife Photographer of the Year

روسی فوٹوگرافر نے یہ تصویر خفیہ کیمرے کے ذریعے 11 ماہ کا عرصے کے دوران اتاری ، اس دوران فوٹرگرافر نے مکمل مہارت کے ساتھ اپناکیمرہ جنگل میں ایک ایسی جگہ نصب کیا کہ جب مادہ ٹائیگر درخت کے تنے سے جڑی تو خود کارکیمرے نے یہ تصویر میموری ریکارڈ میں محفوظ کرلی۔

تصویری مقابلے میں اول درجہ پانے والی تصویر سے متعلق، وائلڈ لائف فوٹو گرافر آف دی ائیر کمیٹی کی سربراہ روز کِڈمین کوکس کا برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں کہنا تھا کہ ’ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ ٹائیگر جانور نہیں، بلکہ اس درخت کا ہی ایک حصہ ہو جس کی دُم درخت کی جڑوں کے ساتھ ساتھ مڑ رہی ہے۔ گویادونوں یک جان ہو گئے ہیں‘‘‘

تصویری مقابلے کے لیے دنیا بھر سے 49 ہزار تصاویر بھیجی گئی جس میں صرف 100 ایسی تصاویر کو شارٹ لسٹ کیا گیا جو دنیا کی امیر ترین جنگلی رہائش گاہوں، جنگلی حیات کے مختلف طرز عمل اور غیر معمولی نوع کی خصوصیات کو نمایاں کیے ہوئے ہیں۔

اس مقابلے میں ایوارڈ جیتنے والی دیگر 4 بہترین تصویریں:

دو بھڑوں کی کہانی:

یہ تصویر فرانسیسی فوٹوگرافر فرینک ڈیسکنڈول کی ہے جو انہوں نے نورمنڈی شہر میں اپنے گھر کے قریب لی۔

© John Blumenkamp / Wildlife Photographer of the Year

تمام موسموں کی لومڑی:

فروری کی ایک شدید سرد سہہ پہر امریکی ریاست وائیومنگ کے  یلو اسٹون نیشنل پارک میں فوٹوگرافر جان بلومین کیمپ کئی گھنٹے اس تصویر کو اتارنے کے لیے انتظار کرتے رہے۔

© John Blumenkamp / Wildlife Photographer of the Year

مچھلی کے منہ میں قمل:

انڈونیشیا کے فوٹوگرافر نارتھ سولاویسی نے یہ تصویر اس لیے لی کہ ایک مچھلی مسلسل اپنے کھلے منہ کے ساتھ مخصوص حرکات کر رہی تھی۔ فوٹوگرافر نے جب تصویر ڈاؤن لوڈ کی تو دیکھا کہ مچھلی کے منہ میں "زبان چوسنے والے قمل" موجود ہےجو جب گلپھڑوں کے ذریعے  داخل ہوتا ہے تو نر ہوتا ہے پھر اپنی جنس تبدیل کرتا ہے اور ٹانگیں بڑی کرکے زبان کے نچلے حصے کے ساتھ چمٹ جاتا ہے اور پھر خون چوستا ہے۔

© Sam Sloss / Wildlife Photographer of the Year

سنہری لمحہ

یہ تصویر پانی کے اندر فلپائنی فوٹوگرافر سونگداکئی کی ہے جسے سنہری لمحہ کا نام دیا گیا ہے۔

© Songda Cai / Wildlife Photographer of the Year