Can't connect right now! retry

بلاگ
23 اکتوبر ، 2020

مسلم لیگ بھی ذرا منفرد جماعت ہے

فوٹو: فائل 

حالیہ بحث کو انصار عباسی کے اِس جملے سے سمیٹا جا سکتا ہے کہ ’’فوجی مداخلت خراب تو سیاست دانوں کا بیوروکریٹس کو ذاتی ملازم سمجھنا اچھا کیسے؟‘‘

پچھلے دنوں پیپلز پارٹی کے حوالے سے ایک کالم لکھا تو کچھ دوستوں نے فرمائش کی کہ پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کے لئے بھی لکھیں، میرے لیے یہ مشکل کام تھا کیونکہ بےشمار مسلم لیگیں ہیں اور ہر جماعت کا دعویٰ ہے کہ ’’اصلی مسلم لیگ ہماری ہے‘‘۔ 

اصلیت کے اِس دعوے نے مجھے خوشاب کا ڈھوڈا، چکوال کی پہلوان ریوڑی، راہوالی کی قلفی اور ملتان کا اصلی سوہن حلوہ یاد کروا دیا، جیسے اِن شہروں کی سوغات پہچاننا مشکل ہے، اِسی طرح اصلی مسلم لیگ پہچاننا خاصا مشکل ہے۔

پچھلی صدی کے ابتدائی برسوں میں مسلم لیگ قائم ہوئی، نواب سلیم اللہ اُس کے سربراہ تھے، جدوجہد کے کئی سال گزارنے کے بعد 1928 سے یہ جماعت مسلمانوں کی نمایاں آواز بننے لگی۔ 

1946 میں قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں مسلم لیگ نے الیکشن جیتا، اُس وقت مسلم لیگ کا انتخابی نشان چاند تارا تھا، بالکل اُسی طرح کا چاند تارا جیسا پاکستان کے جھنڈے میں ہے۔ 

پاکستان بننے کی منزل قریب آئی تو سارے جاگیردار مسلم لیگی بن کر قائدِاعظم ؒ کے ارد گرد جمع ہو گئے، یہ مسلم لیگ کے اقتدار پرست ٹولے کی سوچ تھی، اُس ابن الوقت اور اقتدار پرست ٹولے نے آج تک مسلم لیگ کی جان نہیں چھوڑی۔ 

قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک کبھی مسلم لیگ ایک نظر نہیں آئی، کبھی کونسل مسلم لیگ تو کبھی کنونشن مسلم لیگ، کہیں خواجہ گروپ تو کہیں قیوم گروپ نظر آیا، جب قومی اتحاد کے نو ستارے جدوجہد میں مصروف تھے تو مسلم لیگ اُس کا بھی حصہ تھی۔

مسلم لیگ کا نیا جنم 1985 کے بعد ہوا ہے، 1985 میں پیپلز پارٹی کے خوف سے وقت کے آمر نے غیرجماعتی بنیادوں پر الیکشن کروائے، پیر پگارو کے کہنے پر سانگھڑ سے اُن کے ایک مرید محمد خان جونیجو کو وزیراعظم بنایا گیا پھر آزاد منتخب ہونے والے اراکین میں سے مسلم لیگ تراشی گئی، اُن لوگوں نے سائیکل کا نشان چنا، یہی نشان آئی جے آئی کے کام آیا، اُس وقت کہیں سے پیسے بھی آئے تھے۔ 

جونیجو کے بعد مسلم لیگ ن اور جے یعنی جونیجو گروپ بعد میں چٹھہ گروپ بن گئی، اُسی مسلم لیگ میں سے میاں منظور احمد وٹو نے مسلم لیگ جناح بنائی، 12 اکتوبر 1999 کے بعد پرویز مشرف اقتدار میں آ گئے تو پھر مسلم لیگ ن میں سے ق نکل آئی۔

2002 کے بعد اقتدار اُس کے حصے میں آیا، انتخابی نشان سائیکل ہی رہا جبکہ ن لیگ نے شیر کا نشان لے لیا، لوگوں نے زیادہ ق کہنا شروع کیا تو اُنہوں نے جماعت کا نام پاکستان مسلم لیگ رکھ لیا۔ 

اسی دوران مسلم لیگ ضیاء بھی نمودار ہوئی، بعد میں مشرف نے آل پاکستان مسلم لیگ بنا ڈالی، ساتھ ساتھ مسلم لیگ فنکشنل کا جادو بھی چلتا رہا، عوامی شیخ رشید نے اپنی عوامی مسلم لیگ کو بھی زندہ رکھا ہوا ہے، ایک بات تو طے ہے کہ مسلم لیگ کا کوئی نہ کوئی گروپ اقتدار میں ضرور رہا ہے، موجودہ دور میں سب سے بڑی مسلم لیگ وہ مسلم لیگ ہے جس کے ساتھ ن آتا ہے، اب اِس ’ن‘ میں سے ’ش‘ کو تلاش کیا جا رہا ہے۔

مسلم لیگ ن دولت مندوں کی پارٹی ہے، اِس پارٹی کا سارا دارومدار خرید و فروخت پر رہتا ہے، شاید اِس کی بڑی وجہ جماعت میں تاجروں اور سرمایہ داروں کی اکثریت ہو کیونکہ یہ جماعت زندگی کے دوسرے شعبوں سے افراد کو خرید کر ہمنوا بنانے کی قائل ہے۔ 

دولت کے حریص بہت سے افراد اپنی ہمدردیاں ن لیگ کے پلڑے میں ڈال دیتے ہیں مگر کئی افراد اِس چکر میں نہیں آتے، اِسی لیے چابیاں واپس ہو جاتی ہیں، اِسی لیے جے آئی ٹی کے افراد بھی قابو نہیں آتے۔

مسلم لیگ ن کی قیادت کا اپنے کارکنوں یا مار کھانے والے رہنماؤں کےساتھ وہ رویہ نہیں ہے جو پیپلز پارٹی کا ہے، مثلاً مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد جاوید ہاشمی، چودھری صفدر الرحمٰن، تہمینہ دولتانہ، خواجہ سعد رفیق، چودھری جعفر اقبال، پیر صابر شاہ، امداد چانڈیو، سید غوث علی شاہ، چودھری اصغر اور عشرت اشرف سمیت کئی لوگوں نے قربانیاں دیں مگر جب ن لیگ پر اچھے دن آئے تو اُن لوگوں کو نظرانداز کر دیا گیا۔ 

پہلے پہل تو اقبال ظفر جھگڑا کو بھی نظرانداز کیا گیا تھا پھر ایک خاص آدمی کے کہنے پر اقبال ظفر جھگڑا پر نظرِکرم کی گئی، پارٹی قیادت کو سچ بولنا چاہیے مگر مسلم لیگ ن کی قیادت کو یہ عادت نہیں۔ 

مثلاً وہ مشرف کے ساتھ معاہدہ کرکے گئے جب اِس سلسلے میں مسلسل جھوٹ بولا گیا تو پھر سعودی شہزادے مقرن کو معاہدہ لہرانا پڑا، سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کے دوران جو پوچھا گیا اُس کے جھوٹ پر مشتمل جواب دیے گئے ’’یہ ہیں وہ ذرائع‘‘ سے لے کر قطری خط تک سب جھوٹ نکلا۔ 

اِسی طرح ’’میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں ہے‘‘ سے لے کر کیلبری فونٹ تک کہیں پر بھی سچ نہ بولا گیا، اب لندن جانے کے لیے پتا نہیں کونسی جناتی رپورٹوں کا سہارا لیا گیا۔ 

مسلم لیگ ن ایک بڑی سیاسی جماعت ہے، اُس کی قیادت کو قوم کے سامنے سچ بولنا چاہیے مگر افسوس کہ جماعت کی قیادت اپنے پارٹی رہنماؤں سے بھی سچ نہیں بولتی، کبھی زبیر کو ہم نے بھیجا، کبھی پتا نہیں اب ن لیگ کی حالت یہ ہے کہ اس میں زیادہ بولنے والے رانا ثناء اللہ اور عظمیٰ بخاری دونوں پیپلز پارٹی سے آئے ہیں، کچھ رہنما جماعت اسلامی سے آئے ہیں۔

اراکین کی خرید و فروخت کا چھانگا مانگا بازار سجانے کا سہرا اسی جماعت کے سر ہے، ماورائے عدالت پولیس مقابلوں میں لوگوں کو مروانے کا رواج بھی اسی جماعت نے دیا، رانا مقبول اور عابد باکسر زندہ ثبوت ہیں۔ 

بیوروکریسی میں این گروپ کی تشکیل بھی یہی جماعت کرتی ہے، احد چیمہ کی گرفتاری پر بیوروکریٹس کا جلوس بھی نکلواتی ہے، اُنہوں نے یہ مفید مشورہ دے کر سندھ میں بھی کھیل کھیلنا چاہا تھا مگر ایک فون نے کام خراب کر دیا، کس کس الیکشن میں دھاندلی ہوئی، یہ تمام معتبر لوگوں کو پتا ہے۔ بقول وصی شاہؔ

تو جانتا نہیں ہے ابھی زندگی کو یار

اس کا ترے فریب میں آنا فریب تھا


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM