Can't connect right now! retry

دنیا
19 نومبر ، 2020

امریکی سینیٹرز نے امارات کو اسلحے کی فروخت رکوانے کا اعلان کردیا

اس معاہدے کے بارے ميں وزير خارجہ مائيک پومپيو نے گزشتہ ہفتے ہی کانگريس کے ارکان کو مطلع کيا تھا،فوٹو: فائل

امریکی سینیٹرز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو 23 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے ہتھیاروں کی فروخت کی مخالفت کردی۔

ڈیموکریٹس سینیٹر بوب مینینڈز، کرس مرفی اور ٹرمپ کی اپنی ہی پارٹی ری پبلکن کے سینیٹر رینڈ پال نے کہا ہےکہ وہ امریکی صدر کی امارات کو 23 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے ہتھیاروں کی فروخت روکنے کےلیے قانونی سازی کریں گے۔

خیال رہےکہ امریکا میں سینیٹ (ایوان بالا)کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی اور ایوان نمائندگان (ایوان زیریں) کی خارجہ امور کی کمیٹی کو ہتھیاروں کی فروخت کا جائزہ لینے اور اسے روکنے کا اختیار حاصل ہے۔

امریکی سینیٹرز کو خدشہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فروخت سے مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن بگڑ سکتا ہے۔

اس معاہدے کے بارے ميں وزير خارجہ مائيک پومپيو نے گزشتہ ہفتے ہی کانگريس کے ارکان کو مطلع کيا تھا۔

معاہدے کے تحت امریکا کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو ایف 35 لڑاکا طیارے، ڈرونز، فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سمیت دیگرہتھیار فروخت کیے جانے ہیں۔

واضح رہے کہ امارات کے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے کے چند روز بعد ہی اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکا اور امارات کی اس ممکنہ ڈیل کی مخالفت کردی تھی۔

رپورٹ کے مطابق  اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کو ایف 35طیاروں کی فروخت کی مخالفت اس لیے کی ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں اس کی فضائی برتری برقرار رہے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM