Can't connect right now! retry

بلاگ
30 جولائی ، 2021

افغانستان میں نیا کھیل؟

وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان سے پاکستان کا موقف ایک بار پھر واضح ہو گیا ہے کہ افغانستان کی صورتحال سے پاکستان متاثر ہو گا۔ بطور ریاست پاکستان نے متعدد بار ان ٹھوس خدشات کا اظہار کیا ہے کہ افغانستان میں امن کا قیام نہایت ضروری ہے۔ بصورت دیگر وہاں حالات کی خرابی سے پورا خطہ بالعموم اور پاکستان بالخصوص شدید متاثر ہوگا۔ 

ہم نے ماضی میں بھی دیکھا کہ افغانستان میں امن و امان کی خرابی اور اندرونی لڑائی کی وجہ سے پناہ گزینوں کا ایک سیلاب افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوا۔ 35لاکھ افغان پناہ گزینوں کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو شدید نقصان پہنچا اور سماجی و اخلاقی خرابیاں الگ پیدا ہوئیں۔ 

کلاشنکوف کلچر اسی دوران پاکستان میں متعارف ہوا اور دہشت گردی کو ایسا فروغ ملا جس نے پاکستان کی جڑیں ہلا کر رکھ دیں لیکن پاکستان کو ان لاکھوں افغان باشندوں کی مہمان نوازی اور ہر طرح سے نقصان برداشت کرنے کا کیا صلہ ملا؟ افغانستان میں جنگ چھیڑنے والے امریکہ نے آج تک امن کے قیام کے لئے پاکستان کی گرانقدر کوششوں کو تسلیم ہی نہیں کیا نہ ہی افغانستان نے پاکستان کی قربانیوں کی قدر کی بلکہ اس کے بجائے بھارت کی پذیرائی کی۔ اسی وجہ سے بھارت نے افغانستان کو بیس کیمپ بنایا اور دو دہائیوں سے افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔

بھارت اور اسرائیل کا پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑ بالکل عیاں ہے۔ یہ دونوں ممالک پاکستان کے خلاف کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے بلکہ پاکستان کےخلاف نئے نئے منصوبے اور فتنے تیار کر کے ان کو عملی جامہ پہنانے کی کوششیں کرتے ہیں۔ 

حال ہی میں اسرائیلی کمپنی پیگاسس کی طرف سے پاکستان کی اہم شخصیات کے فون ہیک کرنے کا منصوبہ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ فیٹف معاملہ میں پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے اور فیٹف کی طرف سے نت نئی اور مشکل ترین شرائط کی پریشان کن صورتحال پیدا کرنے کا اعتراف بھارت خود کر چکا ہے۔ انسانی حقوق کے علمبردار امریکہ اور فیٹف کو بھارت کو بلیک لسٹ کرنے میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے ورنہ یہ امریکہ اور فیٹف کے بارے میں سوالیہ نشان بن کر رہے گا۔

افغانستان کو جس حال میں امریکہ نے ایک بار پھر چھوڑ دیا ہے یہ نہ صرف امریکہ کی شکست ہے بلکہ افغانستان میں جاری موجودہ لڑائی اور خانہ جنگی کی ذمہ داری بھی امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔ امریکہ اپنی شکست کا بدلہ افغان باشندوں سے لینا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لئے اپنی کٹھ پتلی افغان حکومت کی حمایت کر رہا ہے۔

دنیا کو سمجھنا چاہیے کہ امریکہ افغانستان سے نکلا نہیں ہے اس نے صرف اپنی فوج کو نکالا ہے۔ امریکہ اب بھی افغانستان میں طالبان کے خلاف اشرف غنی حکومت کی حمایت اور مدد کر رہا ہے۔ بھارت، اسرائیل اور امریکہ مل کر افغانستان میں نیا کھیل کھیل رہے ہیں۔ میں نے گزشتہ کالم میں تحریر کیا تھا کہ امریکہ اپنی فوج کو افغانستان سے نکال کر افغان کو افغان کے ذریعے مارنا چاہتا ہے اور اب وہی صورتحال بن گئی ہے۔ حالات ثابت کر رہے ہیں کہ امریکہ، بھارت اور اسرائیل کا ٹرائیکا اس خطےمیں امن نہیں چاہتا۔ امریکہ کسی طرح چین کی خطے میں بالا دستی نہیں چاہتا۔

دوسری طرف بھارت اور اسرائیل کی پاکستان دشمنی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ سی پیک ان تینوں ملکوں کی آنکھ میں کانٹا ہے۔ اس لئے یہ تینوں مل کر اب ایک نئے طریقے سے افغانستان کو میدان جنگ بنانا چاہتے ہیں، اصل نشانہ پاکستان ہےکیونکہ یہ جانتے ہیں کہ افغانستان میں بد امنی پاکستان میں بدامنی کے مترادف ہے۔

پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لئے جتنی پُر خلوص کوششیں کی ہیں وہ پوری دنیا کے سامنے ہیں۔ لیکن بجائے ان کوششوں کا اعتراف کرنے کہ امریکہ اور بھارت افغان امن عمل میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اسرائیل نے بھی ان ناپاک رکاوٹوں میں ہر قسم کےتعاون کا عندیہ دیا ہے۔

پاکستان بطور ریاست اب بھی افغانستان میں قیام امن کے لئے کوشاں ہے۔ چین بھی اس مقصد کی تکمیل کے لئے کوششیں کر رہا ہے۔ علاقے کے دیگر امن پسند ممالک اور وسط ایشیائی ریاستیں بھی افغانستان میں قیام امن کی خواہاں ہیں لیکن افغانستان کو میدان جنگ بنانے والے ممالک ان مخلصانہ کوششوں میں اپنے مفادات کے لئے رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ یہ ممالک ایک طرف طالبان کے خلاف اشرف غنی حکومت کی حمایت اور مدد جاری رکھے ہوئے ہیں اور دوسری طرف داعش کو بھی تیار کر رہے ہیں کہ موجودہ افغان حکومت کی ناکامی کی صورت میں داعش اور طالبان کو لڑایا جا سکےاور یوں طالبان کو برسراقتدار آنے سے روکا جا سکے۔ دوسری طرف طالبان بھی ایک منظم حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ 

اب طالبان نے اپنے دو گروپ بنائے ہیں۔ ایک گروپ جنگی محاذ پر برسر پیکار ہے اور دوسرے گروپ کے ذمہ سفارتی و سیاسی ذمہ داریاں ہیں اور یہ دونوں اپنی اپنی ذمہ داریوں کو موثر انداز میں آگے بڑھا رہے ہیں۔ طالبان وفد نے چین میں اعلیٰ چینی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ چین نے طالبان پر واضح کیا ہے کہ چین طالبان کی اخلاقی مدد کرے گا لیکن طالبان پر لازم ہے کہ وہ افغان سرزمین کو کسی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کو یقینی بنائیں۔

پاکستان اور دیگر پڑوسی ممالک بھی یہی چاہتے ہیں خاص طورپر بھارت کو افغان سرزمین استعمال نہ کرنے دی جائے اور کالعدم ٹی ٹی پی سے لاتعلقی اختیار کی جائے۔ آنے والے چند مہینوں میں نہ صرف افغانستان بلکہ وہاں کے اثرات کی وجہ سے پاکستان میں حالات کے خراب ہونے کا اندیشہ ہے ۔ پاکستانی سیاستدانوں کو اس نازک صورتحال کے پیش نظر پاکستان کے لئے مل کر سوچنا چاہیے۔ پہل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM