Can't connect right now! retry

بلاگ
03 اگست ، 2021

پانی کا زور

اسلام آباد کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین دار الحکومتوں میں ہوتا ہے، اس شہر میں حسن، سبزہ، پانی اور دلکشی ہے، یہاں موسم کے رنگ صرف نکھرتے ہی نہیں اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔

 اس شہر کی ہواؤں میں عجیب سحر ہے کہ جو یہاں آ کر بس گیا پھر وہ کہیں اور نہیں گیا، اسے اسلام آباد سے عشق ہو گیا۔ عشق نہیں تو محبت ضرور ہو گئی۔ محبت کا یہ حصار انسانوں کو اسلام آباد چھوڑنے نہیں دیتا۔ یہاں کی ہر چیز خوبصورتی سے مزین ہے، یہاں قدرتی حسن ہے مگر کچھ ترکیب بھی درست کی گئی ہے۔

 اسلام آباد ایوبی دور میں بنا، اس شہر کو مارگلہ کی پہاڑیوں نے بانہوں میں لے رکھا ہے۔ مارگلہ کا مطلب تو سانپوں کا گھر ہے مگر سبزے نے ناگ چھپا رکھے ہیں۔ ان پہاڑوں میں جنگلی حیات بھی ہے۔

ان پہاڑوں کے دامن میں دو چار گاؤں بڑے مشہور ہیں۔ ان میں سے ایک گاؤں سید پور ہے، یہ گاؤں ماڈل بن چکا ہے، اس میں مندر، گوردوارہ اور مسجد ہے۔ یوں یہ گاؤں بین المذاہب ہم آہنگی کی عمدہ مثال ہے۔ دوسرے گاؤں کا نام نورپور شاہاں ہے جہاں بری امامؒ کا مدفن ہے، تیسرے گاؤں کا نام گولڑہ ہے جہاں پیر مہر علی شاہؒ کا مزار ہے، چوتھے گاؤں کا نام شاہ اللہ دتہ ہے، اس گاؤں میں وہ غار ہے جہاں بدھا اپنی عبادت کرتا تھا۔ 

حالیہ بارشوں میں مارگلہ کے پہاڑوں سے اسی گاؤں سے پانی اترا اور گولڑہ کے قریب ای الیون سیکٹر سے بہت کچھ بہاتا ہوا لے گیا۔ بپھرے ہوئے پانی کے سامنے کسی کا زور نہ چلا تو لوگوں نے سارا زور، ساراغصہ چیئرمین سی ڈی اے اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد پر اتارا حالانکہ ان دونوں کا اس پورے قصے میں کوئی قصور نہیں، یہ دونوں زبردست اور متحرک افسر ہیں۔ یہ دونوں اسلام آباد کے شہریوں کے لئے ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں، انہیں مطلع رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہاں البتہ اسلام آباد پولیس کی کارکردگی پچھلے کچھ عرصے سے خراب نہیں، بہت خراب ہے۔

لوگ بنیادی وجوہات کو جانے بغیر سوشل میڈیا کے گھوڑے پر سوار ہو جاتے ہیں جس سے حقائق کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ساٹھ کی دہائی میں بننے والے اسلام آباد کے لئے ایک ماسٹر پلان بنایا گیا۔ اسے خوبصورت انداز میں ترتیب دیا گیا، اس کے ہر سیکٹر کے چار سب سیکٹرز بنائے گئے، ان سیکٹرز میں تعلیمی اداروں، پارکس، کھیل کے میدانوں اور عبادت گاہوں کے علاوہ کمرشل مارکیٹوں کا خاص خیال رکھا گیا۔ 

ہر سیکٹر میں ایک مرکزی کمرشل ایریا بنایا گیا اور ہر سیکٹر کے چاروں سب سیکٹرز میں ایک ایک چھوٹی مارکیٹ بنائی گئی۔ یہ سب کام سی ڈی اے نے کیا۔ سی ڈی کے پہلے چیئرمین جنرل یحییٰ خان تھے۔ ایوبی دور میں سی ڈی اے کے چار چیئرمین آئے۔ دو فوجی اور دو سی ایس پی افسر تھے۔ بعد میں آنے والے چیئرمینوں کی فہرست میں بہت سے نام شامل ہیں مگر اسلام آباد کے شہری آج بھی سید علی نواز گردیزی، سعید مہدی، شفیع سہوانی اور انجینئر فرخند اقبال کو یاد کرتے ہیں مگر دو چیئرمین ایسے آئے جنہیں لوگ بھولنا بھی چاہیں تو بھول نہیں سکتے۔ یہ ہیں کامران لاشاری اور عامر احمد علی۔ 

یہاں بھی راوینز آگے ہیں، کامران لاشاری، مشرف دور میں چیئرمین سی ڈی اے تھے، انہوں نے اسلام آباد میں بہت ترقیاتی اور تعمیراتی کام کروائے۔ کامران لاشاری اتنے ذہین تھے کہ جہاں خوبصورتی کا امکان بھی نہیں ہوتا تھا وہ وہاں سے بھی خوبصورتی اگا لیتے تھے۔ انہوں نے اسلام آباد کی سڑکوں کو کشادگی سے نوازا، شہر کو خوبصورت بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ 

عامر احمد علی موجودہ چیئرمین سی ڈی اے ہیں۔ آفرین ہے کہ وہ ایک طرف ترقیاتی کاموں میں جتے ہوئے ہیں تو دوسری طرف ملکی معیشت کی بہتری کے لئے بھی بھرپور کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے خسارے سے بھرے ہوئے سی ڈی اے کو منافع بخش ادارہ بنایا، وزیر اعظم نے انہیں شاباش دی۔ عامر احمد علی دہری ذمہ داریوں کے باوجود شاندار خدمات انجام دے رہے ہیں۔

جیسا کہ آپ کو بتایا گیا ہے کہ سی ڈی اے نے اسلام آباد کے لئے پلاننگ کی، ہر ہر چیز کا خیال رکھا۔ سی ڈی اے نے آبی گزر گاہوں کا بھی خیال رکھا۔ مارگلہ کے پہاڑوں سے کئی ندی نالے اترتے ہیں، ان میں زیادہ مشہور کورنگ، سواں اور لئی ہیں۔ سی ڈی اے نے انہیں آبادیوں میں سے گزارا مگر ان ندی نالوں کے راستوں کو ڈسٹرب نہ کیا۔ 

اس حوالے سے اسلام آباد ایک مثالی شہر تھا کہ یہاں بارش ہوتے ہی چند منٹوں میں پانی غائب ہو جاتا تھا مگر اب ایسا کیا ہوا کہ اسلام آباد میں پانی کے زور کا شور بلند ہوا۔ جی ہاں! اس کی ایک خاص وجہ ہے، پچھلے پچیس تیس برس میں دولت کے پجاریوں نے اسلام آباد کا رخ کیا، انہوں نے یہاں سیاسی اثر و رسوخ استعمال کر کے کئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنا ڈالیں، سیاسی حکومتوں نے سی ڈی اے کو نئے سیکٹرز بنانے سے روکے رکھا۔ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مالکان نے نہ جنگلات کو بخشا اور نہ ہی قبرستان کو حتیٰ کہ ندی نالوں کے راستوں میں بھی گھر تعمیر کر دیئے۔ بھلا گھر پانی کا زور کہاں برداشت کر سکتے ہیں۔ گھر تو گھر پورے پورے دیہات دریا برد ہو جاتے ہیں۔

اسلام آبادمیں جو کچھ ہوا، افسوسناک ہے مگر اس کی ذمہ داری نہ سی ڈی اے پر ڈالی جا سکتی ہے اور نہ ہی ڈپٹی کمشنر پر کیونکہ یہ سارا نقصان دولت کی ہوس کے باعث ہوا ہے۔ اسی ہوس نے آبی گزرگاہوں کو روکنے کی کوشش کی، پانی کے راستے میں اونچے محلات بنا دیئے مگر پھر پانی اپنا کام کر گیا۔ بقول خاکسار؎

اب کے معیار عدل کچھ بدلا ہے اس طرح

جتنے بھی اونچے گھر تھے وہ دریا میں بہہ گئے


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM