Can't connect right now! retry

دنیا
11 ستمبر ، 2021

خطے میں امن و استحکام کیلئے طالبان حکومت کو تسلیم کرنا ضروری ہے، سہیل شاہین

طالبان ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہےکہ خطے میں امن  اور  استحکام کے لیے طالبان حکومت کو تسلیم کیا جانا ضروری ہے۔

جیونیوز کے پروگرام 'جرگہ' میں سلیم صافی کو انٹرویو دیتے ہوئے طالبان کے قطر میں سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ امریکا سمیت مغربی دنیا سے ٓرابطے میں ہیں، خطے میں امن اور استحکام کے لیے طالبان حکومت کو تسلیم کیا جانا ضروری ہے۔

سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ نائن الیون کو طالبان حکومت کی تقریب حلف برداری کا کوئی پروگرام نہیں تھا،سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

نائن الیون حملےکے 20 سال مکمل ہونے پر طالبان کے احساسات کے سوال پر سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ہم نے 20 سال قبل بھی کہا تھا کہ اس حملے میں کوئی افغان شامل نہیں ہے، ہم نے اس حملے کی مذمت بھی کی تھی۔

سہیل شاہین کے مطابق ہم نے پریس کانفرنس میں واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ واقعے میں ملوث افراد کی نشاندہی ہونی چاہیے اور ہم اس مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں، افغانستان کو فتح کرنے کی کوشش نہ کریں ، اس کا نتیجہ بھی وہی ہوگا جو سابقہ حملہ آوروں کا ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوئی بات نہیں سنی گئی او ر افغانستان پر حملہ کیا گیا اور پھر وہی نتیجہ نکلا جو ہم ان کو 20 سال قبل بتارہے تھے، ہم اب بھی یہی کہتے ہیں کہ جو بھی مسئلہ ہے وہ بات چیت سے حل کیا جائے، یہ سب کے لیے بہتر ہے۔

کیا القاعدہ نے نائن الیون کی کارروائی کے سلسلے میں اس وقت کی طالبان قیادت کو اعتماد میں لیا تھا؟ اس سوال پر سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ہمیں بالکل اعتماد میں نہیں لیا گیا، یہ ہماری پالیسی نہیں تھی اور نہ ہے۔

اس سوال پرکہ 'حملے میں ملوث ہونے پر القاعدہ اور اسامہ بن لادن کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی تھی؟' پر سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ہم نے پالیسی بنائی ہےکہ کوئی بھی افغانستان سے اس قسم کی کوئی کارروائی نہ کرسکے، یہ ٹھیک ہے کہ القاعدہ نے حملے کا اعتراف کیا تھا تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمیں اس متعلق کوئی علم نہیں تھا،اگر علم ہوتا تو ہم اس کے ممکنہ ردعمل کے حوالے سے ضرور کوئی پروگرام بنالیتے۔

طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان کی سرزمین کو کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دینا چاہتے، سابقہ تجربے کے تحت اس کے لیے ہماری پوری تیاری ہے۔

سہیل شاہین کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں القاعدہ سے متعلق رپورٹس غلط اور جھوٹ ہیں جو کہ مخالفین کی جانب سے گھڑی گئی ہیں، ہم نے دوحہ معاہدے میں یقین دہانی کرائی ہے کہ ہم افغانستان میں القاعدہ سمیت کسی بھی تنظیم کو کام کرنے نہیں دینگے اور نہ ہی ان کا کوئی سینٹر ہے ،اگر امریکا سمیت کسی کا اس متعلق دعویٰ ہے تو وہ اس کی نشاندہی کرے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM