کاروبار
30 دسمبر ، 2021

ڈیوٹی فری شاپس پر بھی 17 فیصد GST لاگو ہوگا، ضمنی مالیاتی بل میں تجویز پیش

وفاقی حکومت نے ضمنی مالیاتی بل 2021 قومی اسمبلی میں پیش کردیا جس کیخلاف ایوان میں اپوزیشن نے بھرپور احتجاج کیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس جمعے کی صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا ہے۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ضمنی مالیاتی بل سے عوام پر بوجھ بڑھنے کی باتیں بے بنیاد ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر 343 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کی گئی جس میں سے مشینری پر 112 ارب کی ٹیکس چھوٹ ختم کی ہے، فارماسیوٹیکلز پر 160 ارب کی ٹیکس چھوٹ ختم کی ہے، باقی لگژری اشیاء کی درآمد پر 71 ارب روپےکی ٹیکس چھوٹ ختم کی ہے۔ مشینری اور فارما انڈسٹری پر ٹیکس ریفنڈ ہو سکےگا۔

ضمنی مالیاتی بل میں جن اشیاء اور خدمات پر جنرل سیلز ٹیکس (GST) کی شرح میں اضافے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں وہ درج ذیل ہیں۔


ان اشیاء پر سیلز  ٹیکس کی شرح بڑھانے کی تجویز ہے

  • بیکریوں، ریسٹورنٹ اور فوڈ چین پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
  • کیٹررز، ہوٹلز  اور  بڑے ریسٹورنٹس پر ٹیکس 7.5 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
  • سیب کے علاوہ درآمدی پھلوں، سبزیوں پر 10 فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز ہے۔
  • پیکنگ میں فروخت ہونے والےدرآمدی مسالوں پر 17 فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز ہے۔
  • فلار  ملز  پر بھی 10 فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز ہے جس سے آٹا بھی مہنگا ہوسکتا ہے۔
  • ملٹی میڈیا ٹیکس بھی 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصدکرنے کی تجویز ہے۔
  • بیٹری پر ٹیکس 12 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
  • ڈیوٹی فری شاپس پر بھی 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔
  • درآمدی الیکٹرک کاروں پر سیلز ٹیکس 5 سے بڑھا کر 17 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
  • ڈاک کے ذریعے  پیکٹ ارسال کرنے پر 17 فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز ہے۔
  • ادویات کےخام مال پر بھی 17 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) لگانے کی تجویز ہے۔



مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM