بلاگ
04 جنوری ، 2022

اپوزیشن حکومت کے ساتھ ہے!

حکومت نے ضمنی مالیاتی بل 2021عرف منی بجٹ اوراسٹیٹ بینک آف پاکستان 2021بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا، عین اس وقت جب بڑے لوگ نیا سال منانے بیرون ملک جانے کا سامان باندھ رہے تھےاور اس دیس کےبائیس کروڑغربا آنے والے سال سے سہمے ہوئے بیٹھے دعائیں کررہے تھے کہ یاالٰہی اگلاسال مہنگائی نہ لائے بلکہ کوئی حقیقی تبدیلی لائے جو کہ مہنگائی،بے روزگاری اورغربت کو بہا کرلے جائےمگر’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘۔

اس دوران اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا۔ قبل ازیں وفاقی کابینہ نے منی بجٹ کی منظوری دے دی جس پر بعض وزرانے اس ظلم ناروا پر دبے لفظوں میں احتجاج بھی کیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے ایوان میں رولز معطل کرنے کی قرارداد منظور کرائی،میدان صاف ہوا تو اس کے بعد وزیر خزانہ شوکت ترین نے ضمنی مالیاتی بل آئی ایم ایف کی ہدایت،مطالبے بلکہ حکم پر قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔

اسمبلی میں نورا کشتی تو نہیں ہوئی البتہ پیپلز پارٹی کی شگفتہ جمانی نے پی ٹی آئی کی غزالہ سیفی کو تھپڑ جڑدیا، غزالہ سیفی کارروائی چھوڑ کر چلی گئیں۔

اس معاملے پر شگفتہ جمانی بولیں کہ حملہ پہلے غزالہ نے کیا۔وہ سینئر ہیں، کوئی ہاتھ لگائے گا تو جواب تو دینا پڑے گا۔ اس سارے معاملے پر فواد چوہدری بیچ بچائو کے بجائے مووی بناتے رہے۔

اگر اپوزیشن متحد ہوتی تو حکومت کبھی عوام کو زندہ درگور کرنے والا منی بجٹ آئی ایم ایف کے حکم پراسکی خوشنودی کیلئے نہیں لاسکتی تھی۔ اسے ایوان میں شکست کا سامناکرنا پڑتا اور آئی ایم ایف جو اس منی بجٹ کو آردیننس کے ذریعے رو بہ عمل کرنے کا مخالف ہے اس کی طرف سے قرض دینے میں مزید تا خیر ہوسکتی تھی۔

یہ بات عوام بھی دیکھ رہے ہیں کہ ایک طرف تو حکومت آئی ایم ایف کی غلامی میں قوم کولے جاچکی ہے تو دوسری طرف عوام کے ہاتھ پاؤں باندھنے کیلئے اپوزیشن رسی فراہم کررہی ہے۔

حیرت تو ہمیں اس بات پرہے کہ اپوزیشن جو ڈٹ کر ہر حکومتی اقدام کی مخالفت کرتی ہے اس کی دوعملی اس اجلاس میں کھل کر سامنے آگئی ہے۔

اجلاس میں مالی ضمنی بل کیلئے ووٹنگ کی گئی جس میں اپوزیشن کو ناکامی کا سامنا کرناپڑا۔حکومت کو مالی ضمنی بل کیلئے 145ووٹ ملے، اپوزیشن کی طرف سے صرف تین ارکان مخالفت میں کھڑے ہوئے۔

اپوزیشن ارکان کی اکثریت گنتی میں کھڑی نہیں ہوئی۔صرف’’تین ارکان‘‘کی طرف سے ووٹنگ کے وقت کھڑے ہوکر اس کی مخالفت کرنا یہ بات ثابت کرتا ہے کہ اپوزیشن کا ایجنڈا عوامی نہیں بلکہ محض عمران خان کی مخالفت ہے۔

دراصل اپوزیشن حکومت کودرون خانہ مکمل حمایت فراہم کئے ہوئے ہے اور مہنگائی،بیروزگاری،نامساعد معاشی حالات جن سے پاکستانی عوام نبرد آزما ہیں ان میں اپوزیشن برابر کی شریک جرم ہے۔

اب منی بجٹ پر عملدرآمد ہونے کی دیر ہے عوام پر زندگی کا قافیہ مزید تنگ ہوجائے گا۔ صرف وہی اس معاشرے میں اپنا وجود برقرار رکھ سکے گا جس کے پاس مالی وسائل ہونگے۔

قوم نے اپوزیشن کو اسمبلیوں میں صرف نعرے بازی کیلئے نہیں بھیجا بلکہ عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کیلئے بھیجا تھا۔ مصلحت کوش یا دور اندیش کچھ بھی کہہ لیجئے قائد حزب اختلاف محمدشہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری اور ان کے والد گرامی ’’مردِ حر‘‘آصف علی زرداری قومی اسمبلی کے اس سیشن سے غائب پائے گئے۔

پچھلی بار تو ایک ہی ہلے میں حکومت نے جیسے پہلے تین درجن بل پاس کروالئے تھے اب ’’کوٹہ‘‘کم رکھا لیکن پھر بھی قوانین محصولات (ترمیم سوئم) آرڈیننس، فوڈ سیکورٹی فلو اینڈ انفارمیشن آرڈیننس، تحقیقاتی کونسل برائے آبی وسائل (ترمیمی) آرڈیننس، سرکاری نجی شراکتی اتھارٹی (ترمیمی) آرڈیننس، انتخابات (ترمیم سوئم) آرڈیننس، وفاقی حکومت املاک، انتظام اتھارٹی آرڈیننس، سرکاری املاک (تجاوزات کا خاتمہ) آرڈیننس، برقی توانائی کی پیداوار، ترسیل و تقسیم کے انضباط (ترمیمی) آرڈیننس میں 120 دن کی توسیع کی درجن بھر قراردادیں بھی منظور کرالیں۔ ترامیم کیا تھیں،کیا اثرات مرتب ہونگے،عقدہ تب کھلے گا جب اس کے حسن و قبح پر کوئی روشنی ڈالے گا۔

پارلیمانی دنگل نما اجلاس سے فارغ ہونے کے بعد وزیر خزانہ نے اصل باتیں بتائیں ایک پریس کانفرنس میں۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ضمنی مالیاتی بل سے عوام پر’’ بوجھ‘‘ بڑھنے کی باتیں بے بنیاد ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف تو سب پر سیلز ٹیکس لگوانا چاہتا ہے کہ 700 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ واپس لیں، ہم اسے 343 ارب روپے پر لے آئے۔

مجموعی طور پر 343 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کی گئی جس میں سے مشینری پر 112 ارب کی ٹیکس چھوٹ ختم کی ہے، فارماسیوٹیکلز پر 160 ارب کی ٹیکس چھوٹ ختم کی ہے، باقی لگژری اشیاءکی درآمد پر 71 ارب روپےکی ٹیکس چھوٹ ختم کی ہے۔

کوئی پوچھے کہ فارما پر جوایک سو ساٹھ ارب کی ٹیکس چھوٹ ختم کی گئی ہے اس سے ادویات کتنی مزید سستی ہوجائیں گی؟ پرچون فروشوں پر جوٹیکس لگایا گیا ہے اس سے تو عام آدمی ہر گز متاثر نہیں ہوگا کیونکہ ہر پاکستانی یوٹیلٹی اسٹورز پرخریداری کرنے جاتا ہے۔

پرچون فروش تو’جھگی نشینوں‘ کو سودا سلف فروخت کرتے ہیں،یہ الگ بات ہے کہ وہ اب پاکستا ن کے ہر شہر،ہر گاؤں کی ہر گلی میں دکان کھولے بیٹھے ہیں۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM