پاکستان
14 جنوری ، 2022

سپریم کورٹ کا ہائیکورٹس کو تعلیمی اداروں کے معاملات میں مداخلت پر احتیاط کا حکم

سپریم کورٹ نے ہائیکورٹس کو تعلیمی اداروں کے معاملات میں مداخلت پر احتیاط برتنے کا حکم دے دیا۔

خیبر میڈیکل یونیورسٹی میں سائیکالوجی کی طالبہ کی جگہ پیپر میں بیٹھنے پر ایمل خان کو تین سال کیلئے نااہل قرار دینے سے متعلق اپیل کا پانچ صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹس کو جامعات کی پالیسیوں اور قواعد میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے، قانون اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے علاوہ جامعات کے دیگر معاملات میں مداخلت نہ کی جائے، جمہوریت شخصیات سے نہیں بلکہ قانون پر عمل کرنے سے قائم ہوتی ہے۔

فیصلے کے مطابق یونیورسٹیوں میں تعلیمی ماہرین ہوتے ہیں جو طلبہ سے متعلق بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں، ججز کا کام ذاتی پسند نا پسند پر نہیں بلکہ قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔

عدالت نے کہا کہ ایمل خان نے سائیکالوجی کی طالبہ کی جگہ پیپر میں بیٹھنے کی غلطی تسلیم کی۔

سپریم کورٹ نے خیبر میڈیکل یونیورسٹی کی اپیل منظور کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور طالب علم ایمل خان کی تین سالہ نااہلی کا فیصلہ بحال کر دیا۔

خیبر میڈیکل یونیورسٹی نے سائیکالوجی کی طالبہ کی جگہ پیپر میں بیٹھنے پر ایمل خان کو تین سال کیلئے نااہل کیا تھا۔

ایمل خان نے یونیورسٹی کے فیصلے کے خلاف پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، پشاور ہائیکورٹ نے ایمل خان کی نااہلی تین سال سے کم کر کے ایک سال کی تھی۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM