دنیا
25 جنوری ، 2022

لاک ڈاؤن میں پارٹیاں کرنے پر برطانوی وزیراعظم مشکل میں پڑگئے، پولیس تحقیقات کریگی

برطانیہ میں کورونا لاک ڈاؤن کے دوران وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ پر ہونے والی پارٹیوں کے الزامات پر برطانوی پولیس  تحقیقات کرے گی۔

برطانوی میڈیا کے مطابق بورس جانسن نے جون 2020 میں اپنی سالگرہ سرکاری رہائش گاہ پر 30 مہمانوں کے ساتھ منائی تھی، اس کے علاوہ وہ کافی عرصے سے ایک اور الزام کی زد میں ہیں جس کے مطابق مئی 2020 میں سرکاری رہائش گاہ کے لان میں ایک پارٹی کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں 100 کے قریب افراد شریک ہوئے تھے۔

خیال رہےکہ جس وقت یہ پارٹیاں منعقد ہوئیں اس دوران برطانیہ میں کورونا وائرس کے باعث سخت ترین لاک ڈاؤن نافذ تھا، تاہم برطانوی وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ پر ہی ایس او پیز کی خلاف ورزیوں کے انکشاف پر بورس جانسن پر سخت تنقید کی جارہی ہے اور ان سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق میٹروپولیٹن پولیس کورونا وائرس کی وبا کے دوران وزیراعظم کی رہائش گاہ پر منعقدہ پارٹیوں کی کرمنل انویسٹی گیشن کرے گی۔

میٹروپولیٹن پولیس کی کمشنر کریسیڈا ڈک کا کہنا ہےکہ 2020 کے بعد سے 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ (وزیراعظم کی رہائش گاہ) پر ہونے والی کورونا لاک ڈاؤن کی مبینہ خلاف ورزیوں کو دیکھا جارہا ہے۔

دوسری جانب برطانوی وزیراعظم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ  وزیراعظم اور ان کا عملہ پولیس تحقیقات میں مکمل تعاون کرےگا، وزیراعظم سمجھتےہیں کہ تحقیقات پولیس کاحق ہے۔

اس سے قبل پارٹی میں شرکت کے پہلے الزام پر برطانوی عوام اور اپوزیشن کی جانب سے سخت تنقید کے بعد بورس جانسن نے برطانوی پارلیمنٹ سے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ وہ پارٹی ان کے دفتر کے عملے کے لیے تھی جس میں وہ صرف 25 منٹ کے لیے شریک ہوئے تھے تاکہ وبا کے دوران کام کرنے والے عملے کا شکریہ ادا کرسکیں، تاہم مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا اور شکریہ ادا کرنے کے لیے کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔

وزیراعظم کے اس بیان پر برطانوی ارکان پارلیمنٹ حکومت پر پھٹ پڑے تھے، ایک ایم پی افضل خان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے پیاروں کے جنازوں میں شرکت نہ کرسکے اور وزیراعظم اوران کے عملے نے پارٹی کرلی۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM