Geo News
Geo News

Time 19 اپریل ، 2022
بلاگ

ذمہ داری کس کی ہے؟

سیاست اور جمہوریت اب مذاق بن کر رہ گئی ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ملک میں جمہوریت مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔ سیاست کو اس نہج پر پہنچادیا گیا کہ اب اہم ترین اداروں کو بھی سیاسی مفادات کے حصول کے لیے ہدف تنقید بنانے اور بے توقیر کرنے سے گریز نہیں کیاجاتا۔ ہرطرف جھوٹ اور افواہوں کا بازار گرم کر دیا گیا ہے۔

عدلیہ اور دفاعی اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے کمزور کرنے کی ناکام کرششیں کی جا رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان معزز اور محترم اداروں اور شخصیات کے بارے میں جھوٹی اور من گھڑت افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں آئین کو محض کاغذ کا ٹکڑا سمجھا جا تا ہے۔

عمران خان جو اپنے دور اقتدار میں کہتے نہیں تھکتے تھے کہ طاقتور اور کمزور کے لیے ایک جیسا قانون ہونا چاہیے۔ وہ اب خود قانون کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اپنے دور اقتدار میں معاشی اور سیاسی ناکامیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے ملک کو انتشار اور بدامنی کے طرف لے جانے سے بھی نہیں چوکتے۔

کبھی وہ عدلیہ کو اور کبھی پاک فوج کو نشانہ بناتے رہے۔ ایک بے بنیاد خط کو غیر ملکی سازش کا کمزور بیانیہ دے کر دفاعی اداروں کی اہم ترین شخصیات کو اس میں گواہ بنانے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن ڈی جی آئی ایس پی آر کے وضاحتی بیان سے اس بیانیے کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔ کیاقوم اتنی بیوقوف ہے کہ وہ جو کچھ کہیں اس کو من و عن تسلیم کرے اور وہ جو کچھ بھی کریں کوئی ملکی قانون حرکت میں نہ آئے۔

گزشتہ روز لاہور میں آرمی چیف کی گفتگو کو جس طرح توڑ مروڑ کر سوشل میڈیا پر پیش کرنےکی کوشش کی گئی یہ ڈھٹائی نہیں تو اور کیا ہے یہ تمام صورتحال ملک کے خلاف ایک منظم سازش ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ فوری طور پر اس سازش کو بے نقاب کرکے ملوث افراد کو کٹہرے میں لایا جائے۔

گزشتہ دنوں لاہور میں شناخت بتانے کے باوجود حساس ادارے کے ایک افسر کو جس بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کی وڈیوز موجود ہیں۔ حکومت کا فرض ہے کہ ان بدمعاشوں کے خلاف فوری کارروائی کر کےانہیں نشانِ عبرت بنائے۔ اگر فوری طور پر ایسا نہ کیا گیا تو ایسے بدمعاشوں کے حوصلے مزید بلند ہو نگے۔ اور پھر یہ سلسلہ رکےگا نہیں۔ امید ہے کہ عدلیہ بھی اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف فوری فیصلہ صادر کر کے ان کو کیفر کردار تک پہنچا ئے گی۔

حکومت کوئی بھی ہو لیکن آئین و قانون کو بہر صورت بالا تر ہونا چاہیے۔ ملک میں بدامنی اور افراتفری پھیلانے کی منظم کوشش کا امکان ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کو سڑکوں اور ڈیموں کے جائزے چھوڑکر ملک کو درپیش سنگین اندرونی خطرات کی طرف توجہ دینا چاہیے۔ کیونکہ یہ ان کی ذمہ داری ہے۔

عمران خان اس وقت ذہنی تنائو، مایوسی اور خوف کا شکار نظر آرہے ہیں۔ ذہنی تنائو اس لیے کہ جو کچھ ہوا یہ ان کے لیے غیرمتوقع تھا۔ اور ان کو اتار کر تخت نشین ہونے والا وہ ہے جس سے ان کو شدید سیاسی نفرت تھی۔

مایوسی اس لیے کہ اب ایک طرح سے وہ اپنے آپ کو تنہا محسوس کر رہے ہیں۔ اور خوف اس لیے کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آنےوالا ہے اور ان کے خیال میں آنے والا فیصلہ اور دیگر کھلنے والے کھاتے ان کے لیے خطر ناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ جن لوگوں نے ان سے کئی غلط فیصلے کروائے اور انہیں کھائی میں دھکیلا وہ لوگ اب ایک ایک کر کے ان سےکنارہ کش ہو رہے ہیں۔

قارئین کو یاد ہو گا کہ 126 روزہ دھرنے میں ایک صاحب نے علی الاعلان عمران خان کو کس طرح سیاسی کزن بنایا تھا لیکن عمران خان کو استعمال کر کے جب مقصد حاصل کیا گیا تو اس کزن کو اکیلا چھوڑ کر اپنی راہ لے لی۔

ان ہی دنوں ایک خاتون نے عمران خان کے ساتھ شادی کر لی اور کچھ ہی عرصہ بعد ان کو چھوڑ کر گئی بلکہ ان کے خلاف ایک کتاب بھی لکھ ڈالی۔ ایک اور صاحب نے عمران خان کو باور کرایا کہ وہ ملک کو معاشی طور پر چار چاند لگا سکتے ہیں۔ جو بعد میں ناکام ثابت ہوئے۔

اسی طرح کسی نے خارجہ، کسی نے داخلہ اور دیگر معاملات میں ان کو گمراہ کر کے نفع بخش عہدے لیے اور شہرت بھی حاصل کی۔ملک معاشی طور پر کمزوری کے دہانے پر پہنچا لیکن عمران خان کو سوائے قرضے لینے کے اس طرف توجہ کی فرصت ہی نہیں ملی۔ میڈیا میں اپنے اور پرائے کا نیا رواج رائج کیا گیا۔ مخالفین کو راضی کر کے اور ساتھ لے کر چلنے کے بجائے باقاعدہ دشمن تصور کیا گیا۔

عمران خان کو یقین دلایا گیا کہ تنقید کرنےوالے مخالفین کے خریدے گئے ہیں۔ اس لیے تنقید سے اصلاح لینے کے بجائے ان کو کچلنے کی پالیسی اپنائی گئی۔ اب جب اقتدار کا سایہ ہٹ گیا اورخطرات نظر آنے لگےہیں تو وہ لوگ فرار ہونے لگے۔ کوئی اسلام آباد تو کوئی پشاور ایئر پورٹ سے نکل گیا۔

ذرائع کے مطابق باقی بچے کچھے ’’صلاح کار ‘‘ جانے کی تیاریوں میں ہیں۔ لیکن اب بھی وہ غلط مشوروں کے ذریعے نہ صرف عمران خان بلکہ ملک کو بھی برباد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ توشہ خانہ کے معاملےکا اعتراف بھی ایک سابق وفاقی وزیر نے کر کے عمران خان کے لیے ایک اور گڑھا کھود ا ہے۔

ذرائع کے مطابق جو ’’صلاح کار‘‘ فرار نہیں ہونگے وہ وقت آنے پر وعدہ معاف گواہ بن سکتے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ پی ٹی آئی کی طرف سے پہلے ملک کے اہم شہروں اور پھر پورے ملک کو بند کرنے کا منصوبہ ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف جلد از جلد کابینہ کا اعلان کر کے انتظامی معاملات پر توجہ دیں اور قانون شکنوں کے خلاف فوری اور سخت اقدامات کریں۔ یہ واضح ہے کہ کوئی کچھ بھی کرے پوری قوم مسلح افواج کی پشت پر کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔