چاند کی مٹی میں پہلی بار پودے اگانے میں کامیابی

یہ کامیابی فلوریڈا یونیورسٹی کے ماہرین نے حاصل کی / فوٹو بشکریہ فلوریڈا یونیورسٹی
یہ کامیابی فلوریڈا یونیورسٹی کے ماہرین نے حاصل کی / فوٹو بشکریہ فلوریڈا یونیورسٹی

سائنسدان پہلی بار چاند کی مٹی میں پودے اگانے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور اس پیشرفت کو تاریخ ساز قرار دیا جارہا ہے۔

چاند پر بھیجنے والے اپولو مشنز میں جمع کی گئی چاند کی مٹی کے نمونوں میں پودوں کو اگایا گیا ۔

یہ پہلی بار ہے جب زمین میں کسی اور خلائی مقام کی مٹی میں پودوں کو اگایا گیا ہے۔

پودوں کی افزائش کی اس تحقیق کو چاند میں خوراک اور آکسیجن کی فراہمی کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے جہاں ناسا کی جانب سے آرٹیمس پروگرام کے تحت پہلی بار ایک خاتون اور ایک سیاہ فام مرد کو رواں دہائی کے آخر تک بھیجنے پر غور کیا جارہا ہے۔

مگر اس تجربے سے یہ انکشاف بھی ہوا کہ چاند کی سطح پر پودوں کو اگانا کتنا مشکل ہے کیونکہ یہ زمین سے بہت زیادہ مختلف ہے۔

چاند کی مٹی میں پودوں کو اگانے میں کامیابی امریکا کی فلوریڈا یونیورسٹی کے ماہرین نے حاصل کی اور ان کا کہنا تھا کہ اس سے یہ ثابت کرنے میں مدد ملی کہ چاند کی مٹی کے نمونوں میں جراثیم یا ایسے نامعلوم اجزا نہیں جو زندگی کے لیے خطرناک ہوں۔

اس تحقیق پر کئی برسوں سے کام جاری تھا / فوٹو بشکریہ فلوریڈا یونیورسٹی
اس تحقیق پر کئی برسوں سے کام جاری تھا / فوٹو بشکریہ فلوریڈا یونیورسٹی

مگر انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ پودے چاند کی مٹی میں صحیح معنوں میں اگ نہیں سکے۔

تحقیق میں شامل روب فیرل کا کہنا تھا کہ مستقبل میں طویل خلائی مشنز میں ہم ممکنہ طور پر چاند کو ایک ہب یا لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کریں گے، تو تصور کریں کہ اگر ہم چاند کی مٹی میں پودے اگاتے ہیں جو پودوں کے ارتقائی تجربے سے بالکل مختلف ہوگا تو پھر کیا ہوگا؟

اس تحقیق کے لیے سائنسدان کئی برسوں سے کام کررہے ہیں، 15 سال قبل انہوں نے چاند کے نمونے فراہم کرنے کی درخواست کی تھی اور اس کی منظوری 18 ماہ قبل دی گئی۔

ناسا کے اپولو 17 مشن میں جمع کی گئی چاند کی 4 گرام مٹی سب سے پہلے محققین کو دی گئی ، بعد ازاں مختلف اپولو مشنز کے نمونوں سے بھی مٹی فراہم کی گئی، جس کی مجموعی مقدار 12 گرام تھی۔

اس مٹی میں میتھی کے بیجوں کو اگایا گیا / فوٹو بشکریہ فلوریڈا یونیورسٹی
اس مٹی میں میتھی کے بیجوں کو اگایا گیا / فوٹو بشکریہ فلوریڈا یونیورسٹی

سائنسدانوں نے انگوٹھے کے حجم کی ایسی پلاسٹک ٹرے کو گملے کے طور پر استعمال کیا گیا جن کو عموماً خلیات کی تحقیق کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس کے بعد ہر گملے کو چاند کی ایک گرام مٹی سے بھرا گیا ، پھر مختلف اجزا اور پانی کا اضافہ کرکے ان میں میتھی کے بیج بوئے ۔

ان بیجوں کوآتش فشاں کی راکھ اور دیگر شدید ماحول کے نمونوں میں بھی کاشت کیا گیا اور محققین یہ دیکھ کر حیران رہ گئے چاند کی مٹی میں بوئے گئے لگ بھگ تمام بیج اگنے لگے۔

مگر اس مٹی میں پودوں کو نشوونما کے لیے جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے پتے بڑھنے میں عام معمول سے کافی زیادہ وقت لگا جبکہ ان کی رنگت میں سرخی مائل سیاہ ہوگئی۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل کمیونیکشنز بائیولوجی میں شائع ہوئے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM