60 سال قبل جیل سے فرار ہونے والے قیدیوں کے خاکے جاری

الکیٹریز جیل / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
الکیٹریز جیل / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

جیل توڑ کر فرار ہونا فلموں کی حد تک تو آسان ہوتا ہے مگر حقیقی دنیا میں ایسا کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

پھر بھی مختلف جیلوں سے قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں مگر امریکا کی ایک جیل الکیٹریز جسے ناقابل تسخیر سمجھا جاتا تھا، سے 3 قیدیوں کا بھاگنا اس حوالے سے سب سے مشہور واقعہ ہے۔

11 جون 1962 کو فرینک مورس، جان اینگلن اور اس کا بھائی کلارنس اینگلن جیل سے فرار ہوئے اور پھر کبھی ان کا سراغ نہیں مل سکا۔

اس واقعے کو 60 سال مکمل ہونے پر یو ایس مارشلز سروس نے تینوں مفرور قیدیوں کا ایک خاکہ جاری کیا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ اتنے عرصے بعد اب یہ لوگ کیسے نظر آتے ہوں گے۔

ان قیدیوں کا جاری کیا گیا نیا خاکہ / فوٹو بشکریہ یو ایس مارشلز
ان قیدیوں کا جاری کیا گیا نیا خاکہ / فوٹو بشکریہ یو ایس مارشلز

یو ایس مارشلز کے ایک ترجمان کے مطابق 1962 میں الکیٹریز جیل سے فرار ہونے کے واقعے کی تحقیقات اب بھی جاری ہے اور چاہے جتنا بھی وقت گزر جائے ہم ان مجرموں کا پیچھا جاری رکھیں گے اور انصاف کے کٹہرے میں لاکر رہیں گے۔

اگر یہ تینوں قیدی اس وقت زندہ ہوئے تو ان کی عمریں 90 سال سے زیادہ ہوں گی۔

جیل سے یہ تینوں کیسے فرار ہوئے؟

کلارنس انگلین کے کمرے میں موجود ڈمی کی تصویر / فوٹو بشکریہ یو ایس مارشلز
کلارنس انگلین کے کمرے میں موجود ڈمی کی تصویر / فوٹو بشکریہ یو ایس مارشلز

الکیٹریز جیل سان فرانسسکو کے ساحل سے ایک میل دور واقع جزیرے پر بنائی گئی تھی، جسے انتہائی محفوظ جیل قرار دیا جاتا تھا اور خیال کیا جاتا تھا کہ وہاں سے فرار ہونا ناممکن ہے، متعدد قیدیوں نے اس کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔

جیل کے ارگرد آہنی سلاخیں موجود تھیں، خاردار باڑیں تھیں، گارڈ ٹاور تھے جبکہ جیل کا عملہ دن میں متعدد بار قیدیوں کی جانچ پڑتال کرتا تھا۔

تو 12 جون 1962 کو جیل کا عملہ صبح بستروں کی معمول کی چیکنگ کررہا تھا تو اس وقت انہیں احساس ہوا کہ 3 قیدی اپنے کمروں میں نہیں، بلکہ پلاستر سے تیار کردہ ڈمی سر ان کے بستروں پر سجے ہوئے تھے۔

ان سروں پر گوشت کی رنگت کا پینٹ کیا گیا تھا اور اصل انسانی بال سر پر موجود تھے جو رات کے محافظوں کو دھوکا دینے کے لیے تھے۔

اس انکشاف نے جیل حکام کو دنگ کردیا اور فوری طور پر جیل کو بند کرکے تلاش شروع کردی گئی۔

تحقیقات میں معلوم ہوا کہ یہ تینوں قیدی 18 ماہ سے فرار ہونے کی تیاری کررہے تھے اور چمچوں کے ذریعے دیواروں کو کھود کر سرنگ تیار کررہے تھے۔

ان کی تیار کردہ سرنگ / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
ان کی تیار کردہ سرنگ / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

کمروں کے اوپر موجود ایک چھوٹے سوراخ کو ٹولز اور ڈمی سر چھپانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

ان قیدیوں نے دوسری جنگ عظیم میں قیدیوں کو دیے گئے رین کوٹس اور کاٹن سے ایک عارضی کشتی یا رافٹ تیار کی۔

فرار کی رات پہلے تو انہوں نے ڈمی سر بستر پر اس طرح سجائے کہ رات کے محافظوں کو لگے وہ تینوں اپنی جگہ پر سو رہے ہیں۔

اس کے بعد یہ تینوں افراد سرنگوں کے ذریعے پہلے نیچے اس راہداری میں پہنچے جہاں سے پانی وغیرہ کے پائپ گزر رہے تھے اور وہاں سے ایک شافٹ کے ذریعے جیل کی چھت پر چلے گئے۔

وہاں سے نیچے اترنے کے لیے انہوں نے ایک پائپ کے ذریعے خاردار تاروں کو پھلانگا اور پھر اپنی عارضی کشتی کو پانیوں میں اتار دیا اور جیل سے نکل گئے۔

تلاش میں کیا معلوم ہوا؟

1962 کے واقعے کے بعد کی جیل کی ایک تصویر / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
1962 کے واقعے کے بعد کی جیل کی ایک تصویر / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

فرار کے 10 گھنٹے بعد سمندر، فضا اور خشکی تینوں جگہوں پر ان کی تلاش شروع ہوئی تھی جس کے دوران پانی میں ایک سیل بند بیگ ملا جس میں مختلف جگہوں کے پتے اور نمبر درج تھے، جس سے حکام نے مان لیا کہ وہ تینوں ڈوب کر مرگئے ہیں مگر لاشیں کبھی نہیں ملیں۔

حکام کے مطابق یہ ناممکن ہے کہ ٹھنڈے پانی میں یہ قیدی تیر کر فرار ہوجائیں۔

دوسری جانب ایسے مبہم شواہد بھی موجود ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ تینوں زندہ بچ گئے تھے۔

یو ایس مارشلز سروس کے ایک عہدیدار نے امریکی میڈیا کو بتایا تھا کہ وہ کشتی اور پیڈل ممکنہ طور پر جیل کے قریب اینجل آئی لینڈ پر مل گئے تھے، جہاں سے پیروں کے نشانات دور جاتے ہوئے نظر آئے تھے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس رات 3 افراد کی جانب سے ایک گاڑی کو چرانے کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 1963 میں جیل کو بند کردیا گیا تھا اور حکام کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ تینوں قیدیوں کے غائب ہونے سے پہلے ہی کیا جاچکا تھا۔

اس کے بعد تینوں قیدیوں کے بارے میں کبھی کچھ معلوم نہیں ہوسکا، البتہ 2013 میں ایک شخص نے پولیس کو خط بھیج کر جان انگلین ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

خط میں کہا گیا کہ وہ زندہ ہے مگر کینسر کا شکار ہے، اگر اس کا علاج کرایا جائے تو وہ ایک سال جیل میں گزارنے کے لیے تیار ہے۔

اس خط میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اس کا بھائی 2008 جبکہ فرینک مورس 2005 میں انتقال کرچکے ہیں۔

مگر حکام نے اسے شرارت سمجھ کر مسترد کردیا اور اس حوالے سے کوئی کارروائی نہیں کی۔

اس واقعے پر 1979 میں کلنٹ ایسٹ ووڈ کی فلم اسکیپ فرام الکیٹریز بھی ریلیز کی گئی تھی۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM