کھیل
14 اگست ، 2022

کیا افغان طالبان خواتین کو کھیلوں کی اجازت دینے کیلئے رضامند ہوگئے؟

افغانستان کے پاس 2022 کے آخر تک کی ڈیڈ لائن ہے، رکن انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی رکن سمیرا اصغری۔ فوٹو فائل
 افغانستان کے پاس 2022 کے آخر تک کی ڈیڈ لائن ہے، رکن انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی رکن سمیرا اصغری۔ فوٹو فائل

افغان طالبان کے حوالے سے ایک دعویٰ سامنے آیا ہے کہ طالبان نے خواتین کو کھیلوں کی اجازت دینے کے لیے رضامندی کا اظہار  کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان میں خواتین کو اسپورٹس کی اجازت دینے کے حوالے سے  انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی (آئی او سی) کی جانب سے طالبان حکام سے رابطہ کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کی رکن سمیرا اصغری نے طالبان سے روابط کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان نے خواتین کو کھیلوں کی اجازت دینے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے تاہم اس حوالے سے تاحال طالبان کی جانب سے کسی قسم کا مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔ 

سمیرا اصفری نے کہا کہ افغانستان کے پاس 2022 کے آخر تک کی ڈیڈ لائن ہے، تمام ایتھلیٹس کو ری لوکیٹ نہیں کر سکتے، اس لیے طالبان سے رابطہ کیا گیا۔

یاد رہے کہ طالبان نے گزشتہ برس اگست میں افغانستان کا کنٹرول حاصل کیا تھا اور اقتدار پر قبضے کے بعد افغانستان کے وزیر برائے کھیل نے اعلان کیا تھا کہ خواتین کو کسی بھی قسم کے ایسے کھیل کی اجازت نہیں دی جائے گی جس میں جسم کی نمائش کا عنصر  پایا جاتا ہو۔   

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM