دنیا
24 ستمبر ، 2022

پیوٹن کو ان کی پارٹی اور وزرا نے یوکرین پر حملہ کرنےپر مجبور کیا،سابق اطالوی وزیر اعظم

فوٹو: سابق اطالوی وزیر اعظم اور روسی صدر فائل
فوٹو: سابق اطالوی وزیر اعظم اور روسی صدر فائل

اٹلی کے سابق وزیر اعظم سلویو برلسکونی نے ولادیمیر پیوٹن کے یوکرین پر حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی صدر کو  تنازع میں  دھکیلاگیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 85 سالہ اٹلی کے سابق وزیر اعظم  نے  اطالوی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ روسی فوجیوں کا مقصد یوکرینی حکومت کو مہذب لوگوں کے ساتھ تبدیل کرکے پھر وہاں سے انخلا کرنا تھا۔

تین بار کے اطالوی وزیر اعظم روسی صدر کے طویل مدتی اتحادی ہیں، اس ہفتے کے آخر میں ان کی پارٹی اٹلی میں ہونے والے عام انتخابات میں دائیں بازو کے اتحاد کے ساتھ اقتدار میں آسکتی ہے۔

سلویو برلسکونی نے اطالوی ٹی وی کو بتایا کہ ماسکو میں  پھیلنے والا بیانیہ جس میں کہا گیا کہ یوکرین کی حکومت ملک کے مشرق میں روسی زبان بولنے والوں کو ذبح کر رہی ہے، میڈیا نے تیار کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ روسی حکومت میں علیحدگی پسند قوتوں اور قوم پرست سیاست دانوں کی طرف سے کی جانے والی میڈیا رپورٹنگ نے  پیوٹن کے پاس یوکرین پر محدود حملے کے سوا کوئی چارہ نہیں چھوڑا تھا۔

سابق اطالوی وزیر اعظم نے کہا کہ پیوٹن کو  ان کی پارٹی اور ان کے وزرا نے یوکرین پر حملہ کرنےپر مجبور کیا تھا۔

دوسری جانب اٹلی کے حزب اختلاف کے رہنما نے سابق اطالوی وزیر اعظم کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے ان پر پیوٹن کی زبان بولنے کا الزام لگایا۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM