پی ٹی آئی وفد کی سپریم کورٹ آمد، چیف جسٹس سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی

پی ٹی آئی ارکان چیف جسٹس سے استعفوں کی منظوری کے معاملے پر ملناچاہتے تھے، رجسٹرار سپریم کورٹ کی بھی پی ٹی آئی ارکان سے ملاقات نہ ہوسکی، ذرائع— فوٹو: اسکرین گریب
پی ٹی آئی ارکان چیف جسٹس سے استعفوں کی منظوری کے معاملے پر ملناچاہتے تھے، رجسٹرار سپریم کورٹ کی بھی پی ٹی آئی ارکان سے ملاقات نہ ہوسکی، ذرائع— فوٹو: اسکرین گریب

‏وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے وفد  نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال سے ملاقات کیلئے سپریم کورٹ پہنچ گئے۔

چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات کیلئے آنے والے ارکان قومی اسمبلی کی تعداد 8 تھی تاہم وفد کو چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔ ذرائع نے بتایا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ کی بھی پی ٹی آئی ارکان سے ملاقات نہ ہوسکی۔

 میڈيا سے گفتگو میں عامر ڈوگر کا کہنا تھاکہ چیف جسٹس سے پی ٹی آئی کےاستعفوں کی منظوری کے معاملے پر ملناچاہتے تھے، سپریم کورٹ نے اسمبلی واپس جانے کا کہا تو حکومت نے استعفے منظور کر لیے۔

دوسری جانب فواد چوہدری نے کہاکہ اسپیکر کی رولنگ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کےباعث یہ بحران آیا، عدلیہ اپنا کردار ادا کرے، پاکستان میں اس وقت ایوانوں میں 65 فیصد نشستیں خالی ہیں، الیکشن کمیشن کی حیثیت صرف ایک منشی کی ہوگئی ہے، الیکشن کمیشن کو فون جاتا ہے اور وہ کلرک کی طرح سائن کردیتا ہے۔

خیال رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے تحریک انصاف کے مزید 43 ارکان کے استعفے منظور کرلیے ہیں۔

اب مزید 43 استعفوں کی منظوری کے بعد مجموعی طور پاکستان تحریک انصاف کے 122اور شیخ رشید کا ایک استعفیٰ ملا کر 123اراکین کے استعفے منظور ہو چکے ہیں۔

مزید خبریں :