حکومت کا بجلی کے تعطل جیسے واقعات کی روک تھام کیلئے جامع حکمت عملی تیار کرنے کا فیصلہ

فوٹو: فائل
فوٹو: فائل

حکومت نے بجلی کے تعطل جیسے واقعات کی روک تھام کیلئے جامع حکمت عملی تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ  کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے۔

 اجلاس میں توانائی بچت کے حوالے سے پہلی ملک گیر عوامی آگہی مہم کی منظوری دی گئی اور ہدایت جاری کی گئی کہ  توانائی کی بچت کتنی ضروری ہے ، اسے تعلیمی نصاب میں بھی شامل کیاجائے گا۔

اس کے علاوہ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کی نگران حکومتوں کو بھی توانائی بچت کے منصوبوں پر اعتماد میں لیا جائے، وزیر اعظم نے بجلی کے ملک گیر بریک ڈاؤن پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ عوام، کاروباری برادری کو مشکلات اور پریشانی میں مبتلا کرنے کے ذمہ داروں کاواضح تعین کیا جائے۔

وزیر توانائی خرم دستگیر نے کابینہ کو بتایا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ صبح 7 بج کر 34 منٹ پر نارتھ ساؤتھ ٹرانسمیشن لائن میں فنی خرابی، وولٹیج میں اچانک اتار چڑھاؤ اور فریکوئنسی میں تعطل آیا جس کے بعد بجلی کا ترسیلی نظام خودکار حفاظتی نظام کے تحت بند ہوگیا۔  

اجلاس میں  توشہ خانہ کی تفصیلات پبلک کرنے کی منظوری بھی دی گئی ،کابینہ کو توشہ خانہ سے متعلق بین الاوزارتی کمیٹی کی سفارشات پر مبنی جامع رپورٹ پیش کی گئی جس میں نئی توشہ خانہ پالیسی کا مسودہ بھی شامل ہے ، وفاقی کابینہ نے اس حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔

 وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ان تجاویز کی روشنی میں بین الاوزارتی کمیٹی اپنی رپورٹ میں ترامیم کرے اور کابینہ کے آئندہ اجلاس میں منظوری کے لیے ترمیمی رپورٹ پیش کی جائے ۔