Time 18 جنوری ، 2024
صحت و سائنس

دماغ کے لیے ایسی تباہ کن عادات جو بیشتر افراد اپنا لیتے ہیں

چند عادات دماغ کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہیں / فائل فوٹو
چند عادات دماغ کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہیں / فائل فوٹو

عمر کے ساتھ ہر فرد کے دماغ میں تبدیلیاں آتی ہیں اور ذہنی افعال بھی تبدیل ہوتے ہیں۔

عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ تنزلی کا شکار ہونے لگتا ہے اور اس کا نتیجہ بڑھاپے میں الزائمر اور ڈیمینشیا جیسے امراض کی شکل میں بھی نکل سکتا ہے۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ دماغی افعال کی رفتار سست ہو جاتی ہے جبکہ کچھ دماغی حصے سکڑ جاتے ہیں۔

مگر کچھ عادات دماغی عمر میں تیزی سے اضافہ کرتی ہیں جس سے ذہنی تنزلی کا خطرہ بڑھتا ہے۔

حیران کن طور پر یہ عادات بہت عام ہیں اور بیشتر افراد انہیں بے ضرر تصور کرتے ہیں۔

دل کا خیال نہ رکھنا

دل کی صحت براہ راست دماغی صحت سے جڑی ہوتی ہے۔

صحت مند دل دماغ کے لیے بھی فائدہ مند ہوتا ہے اور اگر دل کو تناؤ کا سامنا ہو تو دماغ کے لیے خون کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔

اسی طرح ہائی بلڈ پریشر کے شکار افراد میں بھی ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا

بہت زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے سے دماغ کے اس حصے میں تبدیلیاں آتی ہیں جو یادداشت کے لیے بہت اہم تصور کیا جاتا ہے۔

تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا کہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے سے یادداشت میں مدد فراہم کرنے والا دماغی حصہ medial temporal lobe پتلا ہو جاتا ہے۔

تو اس کا آسان حل یہی ہے کہ جسم کو زیادہ سے زیادہ حرکت دینے کی کوشش کریں۔

ورزش سے دوری

بیٹھ کر زیادہ وقت گزارنا ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھاتا ہے اور آپ ہر گھنٹے بعد کچھ دیر چہل قدمی کرتے ہیں تو بھی یہ خطرہ کم نہیں ہوتا۔

اگر آپ دماغ کو تحفظ فراہم کرنا چاہتے ہیں تو ورزش کو عادت بنائیں۔

ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا کہ ہر ہفتے 4 بار 30 منٹ تک تیز چہل قدمی کرنے والے افراد کے دماغی افعال میں چند ماہ کے دوران بہتری آتی ہے۔

ورزش کرنے سے دماغی نیورونز کی نشوونما متحرک ہوتی ہے جس سے یادداشت بہتر ہوتی ہے۔

ورزش سے دماغ کو جوان رکھنے کے ساتھ ساتھ جسم کے دیگر حصوں کو بھی صحت مند رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

مطالعہ نہ کرنا

جرنل نیورولوجی میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ اکثر مطالعہ کرنا دماغی تنزلی کے عمل کو ریورس کردیتا ہے اور اس سے الزائمر یا ڈیمینشیا جیسے امراض سے تحفظ مل سکتا ہے۔

امریکا کی کیلیفورنیا یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 800 کے قریب افراد کو شامل کیا گیا تھا جن کی اوسط عمر 76 سال تھی۔

ان افراد کے دماغی اسکینز کیے گئے اور یادداشت کے ٹیسٹ بھی لیے گئے۔

ان افراد سے پوچھا گیا کہ گزشتہ برس انہوں نے 3 اقسام کی سرگرمیوں میں حصہ لیا یا نہیں۔

ان سرگرمیوں میں مطالعہ (اخبارات، جرائد یا کتابوں کا)، گیمز کھیلنا (بورڈ گیمز یا تاش) اور کمیونٹی کلاسز شامل تھیں۔

تحقیق میں دریافت ہوا کہ ہر ذہنی سرگرمی سے ذہنی عمر اوسطاً 13 سال کم ہوگئی، مگر مردوں میں 17 سال اور خواتین میں 10 سال کا فرق دیکھنے میں آیا۔

دماغی ورزش نہ کرنا

کسی نئی صلاحیت، زبان یا موضوع کے بارے میں جاننے سے دماغ کے متعدد خلیات کو فائدہ ہوتا ہے۔

اس کے لیے آپ کسی مشغلے کو اپنا سکتے ہیں جیسے کسی ساز کو بجانے سے درمیانی عمر میں بہتر طریقے سے سوچنے میں مدد ملتی ہے۔

ہر نیا کام شروع میں مشکل محسوس ہوتا ہے مگر ہمت مت ہاریں، کام جتنا مشکل ہوگا، دماغ کے لیے اتنا بہترین ہوگا۔

تمباکو نوشی

تمباکو میں متعدد ایسے کیمیکلز ہوتے ہیں جو دماغ کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ تمباکو نوشی سے ذہنی تنزلی اور ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھتا ہے۔

سماجی میل جول سے گریز

گھر والوں اور دوستوں سے دوری اختیار کرنے سے دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دوستوں یا راشتے داروں سے ملنے سے دماغی افعال میں تنزلی کا خطرہ 47 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔

لوگوں سے ملنے جلنے سے تناؤ کم ہوتا ہے جبکہ تنہائی کا احساس ختم ہوتا ہے، یہ دونوں عناصر دماغی عمر کی رفتار تیز کر دیتے ہیں۔

نیند کی کمی

جب آپ نیند کی کمی کے شکار ہوتے ہیں تو دماغ کے لیے ایک عام کام بھی بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

نیند کی کمی کے شکار ہونے پر توجہ مرکوز کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے جبکہ یادداشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

تو اچھی دماغی صحت کے لیے روزانہ 7 سے 9 گھنٹے نیند ضروری ہوتی ہے۔

غذا کا خیال نہ رکھنا

غذا میں زیادہ چکنائی اور میٹھے کے استعمال دماغی افعال کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

اس کے مقابلے میں پھل، سبزیاں، دالیں، مچھلی اور زیتون کے تیل جیسی مخصوص غذائیں دماغ کے لیے بہترین ہوتی ہیں۔

روزانہ ایک کپ چائے یا کافی پینے سے بھی دماغ کو فائدہ ہوتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔