Time 27 فروری ، 2025
دنیا

ترکیہ کے کرد عسکریت پسند رہنما عبد اللہ اوجلان کا ہتھیار ڈالنے اور اپنی تنظیم تحلیل کرنے کا اعلان

ترکیہ کے کرد عسکریت پسند رہنما عبد اللہ اوجلان کا ہتھیار ڈالنے اور اپنی تنظیم تحلیل کرنے کا اعلان
عبداللہ اوجلان جیل میں ڈی ای ایم پارٹی کے وفد کے ساتھ بیان دیتے ہوئے— فوٹو: رائٹرز

استنبول: ترکیہ میں قید کرد عسکریت پسند تنظیم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے رہنما عبداللہ اوجلان نے اپنی تنظیم سے ہتھیار ڈالنے کی اپیل کردی۔ 

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق اوجلان کی یہ اپیل ترکی کے ساتھ کے ساتھ 40 سالہ تنازعے کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے اور خطے میں سیاسی و سلامتی کے لحاظ سے دور رس نتائج مرتب کر سکتی ہے۔

کرد حامی ترک جماعت پیپلز ایکویلیٹی اینڈ ڈیموکریسی پارٹی(ڈی ای ایم پارٹی) کے ایک وفد نے جمعرات کے روز اوجلان سے ان کی جیل میں ملاقات کی اور بعد ازاں استنبول میں ان کا بیان جاری کیا۔

خیال رہے کہ عبد اللہ اوجلان 1999 سے ترکی کی امرالی جیل میں قید ہیں۔

اوجلان نے اپنے بیان میں کہا ’میں ہتھیار ڈالنے کی اپیل کر رہا ہوں اور اس تاریخی ذمہ داری کو قبول کرتا ہوں۔‘

ڈی ای ایم پارٹی کے اراکین کے مطابق اوجلان نے اپنی جماعت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک اجلاس منعقد کرے اور باضابطہ طور پر خود کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کرے۔

عرب میڈیا کے مطابق ترکیہ کی ڈی ای ایم پارٹی کی کانفرنس میں کردستان ورکرز پارٹی کے باغی رہنما عبداللہ اوجلان سے منسوب خط پڑھا گیا

عبداللہ اوجلان  کے کہا کہ امن ہتھیار اٹھانے اور جنگ سے زیادہ طاقتور ہے، ہم امن و سلامتی کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔

عبد اللہ اوجلان نے مزید کہا کہ کردوں کے وجود کو تسلیم نہیں کیا جارہا تھا تو کردستان ورکرزپارٹی وجود میں آئی، چیلنجز کا سامنا کرنے کے ليے کردستان ورکرز پارٹی کا قیام ناگزیر تھا۔

اپنے خط میں عبدالہ اوجلان نے کہا کہ تمام مسلح گروہوں کو ہتھیار ڈالنا پڑیں گے۔

واضح رہے کہ ترکی اور اس کے مغربی اتحادی پی کے کے کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق پی کے کے کی جانب سے 1984میں شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک 40 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ابتدا میں پی کے کے کا مقصد کردوں کے لیے علیحدہ ریاست کا قیام تھا، تاہم بعد میں اس نے اپنے علیحدگی پسند نظریات کو ترک کر کے جنوب مشرقی ترکیہ میں زیادہ خودمختاری اور کردوں کے حقوق کے لیے جدوجہد پر توجہ مرکوز کی۔

مزید خبریں :