Advertisement

کھیل
time icon 01 مارچ ، 2022

لاہور قلندرز نے پی ایس ایل 7 میں 90 کروڑ روپے کے منافعے کا تاثر رد کردیا

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) فرنچائز  لاہور قلندرز کے چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) ثمین رانا نے فرنچائز مالکان کو 90 کروڑ روپے کا منافع ہونے کی رپورٹس کو مسترد کردیا۔

ثمین رانا کا کہنا ہے کہ ’میں نے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) رمیز راجہ کا پی ایس ایل 7 کے منافعے اور فرنچائزز کو 90 کروڑ روپے ملنے والا بیان سوشل میڈیا پر پڑھا ہے ، 90 کروڑ روپے کا منافع کسی صورت میں نہیں بنتا، یہ شاید انہوں نے ریونیو کے اعداد و شمار بتائے ہیں، اس ریونیو کا بھی مجھے علم نہیں ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’چند ہفتے قبل پی سی بی سے اس حوالے سے کہا تھا لیکن مجھے اس بارے میں نہیں بتایا گیا ، میری اپنی معلومات کے مطابق ریونیو 70 سے 85 کروڑ روپے کے درمیان ہو سکتا ہے، یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اس ریونیو میں اخراجات نکالے جانے ہیں، مثال کے طور پر لاہور قلندرز کی جو فیس ہے وہ 42 کروڑ روپے ہے، اس کے علاوہ کھلاڑیوں کا معاوضہ، پروڈکشن کے اخراجات، لاجسٹکس اور دیگر کئی اخراجات ہیں، اچھی بات ہے کہ ریونیو بڑھا ہے  لیکن تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ 90 کروڑ روپے کا منافع ہوا ہے یہ غلط بات ہے۔‘

ثمین رانا کے مطابق: ’خوشی ہے کہ 7 ویں ایڈیشن میں ٹرافی لاہور قلندرز کو مل گئی، پہلے چار  برس تو  سفر  بہت مشکل رہا، اس دوران ہم سے غلطیاں بھی ہو ئیں اور ان غلطیوں سے ہم نے سیکھنے کی کوشش بھی کی، لاہور قلندرز نے جو ایک عمل شروع کیا تھا اس کو نہیں چھوڑا بلکہ اس کے مطابق کام کیا، ہمیں بہت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری، اللہ نے ہمیں عزت دی اور یہ عزت کمانے کا موقع ہمیں اپنے شہر میں ملا، اسٹیڈیم اپنے شہر کے فینز سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اس سے بڑھ کر اور کیا خوشی ہو گی  اور اچھا موقع کیا ہوگا۔‘

سی او او لاہور قلندرز  ثمین رانا نے کہا کہ لاہور قلندرز کی کامیابی میں کپتان شاہین شاہ آفریدی کا ایک بہت بڑا کردار ہے، شاہین نے کپتان بننے کے بعد ایک بات کی تھی وہ یہ تھی کہ یہ ٹیم نہیں ہے بلکہ ایک فیملی ہے، اس طرح یہ شروع ہی سے ایک فیملی بن گئی، کوئی سینیئر جونیئر کا فرق نہیں تھا، سب ایک فیملی تھے، سب ایک دوسرے کو سپورٹ کر رہے تھے۔

لاہور قلندرز کے مالک عاطف رانا نے کہا کہ لاہور قلندرز کا ٹرافی جیتنا پورے پاکستان کے لیے فخر کی بات ہے، 92 ء کے ورلڈ کپ کے بعد سب سے زیادہ خوشی اور جشن اس وقت پی ایس ایل کی جیت کا منایا جا رہا ہے، ہم نے اپنے فینز کو  پلیئر ڈویلپمنٹ پروگرام دیا، گراؤنڈز  آباد کیے،کھلاڑی متعارف کرائے، ٹرافی کی کمی تھی جو اب پوری ہو گئی ہے، یہ ٹرافی ہمارے لیے نہیں ہے ہمارے فینز کیلئے ہے  ۔

Advertisement

@geonews_sport

Advertisement