گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور کی تاریخی اہمیت

November 09, 2019
ویب ڈیسک
 

گوردوارہ دربار صاحب کی قدیم عمارت دریائے راوی کےسیلاب میں تباہ ہو گئی تھی: فوٹو_ اے ایف پی 

پاکستان میں سکھوں کے 2 مقدس ترین مقامات ہیں، پہلا جنم استھان ننکانہ صاحب ،جہاں سکھ مذہب کے بانی باباگورونانک دیو جی کی پیدائش ہوئی اور دوسرا گوردوارہ دربار صاحب کرتاپور ، جہاں باباگورونانک نے اپنی عمر کے آخری 18سال گزارے اور یہیں وفات پائی، یہاں ایک جانب ان کی سمادھی اور دوسری جانب قبر بنائی گئی ہے۔

گوردوارہ دربارصاحب کرتارپور سکھ مت کے ماننے والوں کا دوسرامقدس ترین مقام لاہور سے تقریباً 120 کلومیٹر اورپاک بھارت سرحد سے صرف 4کلومیٹر کی دوری پر واقع یہ ہے، گوردوارہ دریائے راوی کے کنارےچھوٹے سے گاؤں کوٹھے پنڈ میں آبادہے، یہ گاؤں ضلع نارووال کی تحصیل شکر گڑھ میں آتاہے، سفید رنگ کا یہ خوبصورت گوردوارہ دور سے دیکھنے میں ایک پرندےکی مانند لگتاہے۔

گوردوارہ دربار صاحب کی تاریخی اہمیت یہ ہےکہ سکھ مت کے بانی باباگورونانک دیو جی نےاپنی عمر کے آخری 18سال گاؤں کوٹھے پنڈ میں گزارےاور 22 ستمبر 1539ء کو یہیں وفات پائی، یہاں ایک جانب ان کی سمادھی اور دوسری جانب قبربنائی گئی ہے۔


گوردوارہ دربار صاحب کی قدیم عمارت دریائے راوی کےسیلاب میں تباہ ہو گئی تھی ، موجودہ عمارت 1920 ءسے 1929 ءکے درمیان پٹیالہ کے مہاراجا سردار بھوپندر سنگھ نےتعمیر کرائی ، 1995ء میں حکومت پاکستان نے اس کی دوبارہ مرمت کی، جولائی 2004ء میں یہ گوردوارہ مکمل طور پر بحال کر دیا گیا،گوردوارے کے باغیچے میں باباگورونانک کے زیرِاستعمال رہنے والا کنواں بھی ہے جسے سکھ عقیدت میں "سری کُھوہ صاحب"کہتےہیں۔

تقسیم ہند کے وقت یہ گوردوارہ پاکستان کے حصے میں آگیا، تقریباً 56 سال تک سکھ زائرین اس کی زیارت کے منتظر رہے، انہوں نے بھارتی سرحدپر دور درشن استھان بنا رکھے تھے جہاں سے وہ دوربین کی مدد سےاس کا دیدار کیا کرتے تھے، سکھ برادری کئی دہائیوں تک راہداری کی تعمیرکا مطالبہ کرتی رہی، دونوں ملکوں کی پچھلی حکومتوں نے 1998ء، 2004ء اور 2008ء میں راہداری کی تعمیر کیلئے ابتدائی بات چیت بھی کی لیکن کوئی نتیجہ نہ نکل سکا ۔

وزیراعظم عمران خان کی تقریبِ حلف برداری میں بھارتی کرکٹر سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو سے اس سلسلے میں بات چیت ہوئی جس میں اس منصوبے کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کا اعلان کیا گیا۔