گلگت بلتستان انتخابات، نتائج آنے کا سلسلہ جاری

اب تک غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار 6، پیپلزپارٹی 4، تحریک انصاف ۴ اور مجلس وحدت مسلمین ایک نشست پر کامیاب ہوئی ہیں

برف باری، بارش  اور شدید سرم موسم کے باوجود گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے  ووٹنگ کا عمل پُرامن انداز میں مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا سلسلہ جاری ہے۔

گلگت بلتستان میں 7لاکھ سے زائد ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جب کہ سوا لاکھ سے زیادہ افراد پہلی بار ووٹر بنے۔

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے لیے ووٹنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بلاتعطل جاری رہا۔

گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کی 24 نشستوں میں سے 23 پر انتخابات ہوئے جن میں سے اب تک 15 حلقوں کے تمام پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی و غیرسرکاری نتائج موصول ہوچکے ہیں۔

تازہ ترین پارٹی پوزیشن

Made with Flourish

اب تک آنے والے 15 حلقوں  کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج  کے مطابق آزاد امیدوار 6، پیپلزپارٹی 4، تحریک انصاف 4 اور مجلس وحدت مسلمین ایک نشست پر کامیاب ہوئی ہیں۔

تحریک انصاف کو 4 جب کہ مسلم لیگ (ن) کو 2 جب کہ پی پی پی اور جے یو آئی ایف کو ایک، ایک حلقے میں برتری حاصل ہے۔

گلگت بلتستان کی ایک نشست پر امیدوار کے انتقال  کے باعث انتخابات ملتوی کیے گئے ہیں۔

پیپلزپارٹی کی بڑی وکٹ گرگئی

گلگت بلتستان کے انتخابی حلقے جی بی اے 7 اسکردو ون سے پاکستان تحریک انصاف کے راجہ محمد زکریا خان نے سابق وزیراعلیٰ و پیپلزپارٹی کے رہنما مہدی شاہ کو شکست دی ہے۔

جی بی اے 7 اسکردو 1 کے 28 مکمل پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پی ٹی آئی امیدوار راجا محمد زکریا نے 5288 ووٹ لیکر پہلے نمبر پر ہیں۔

پی پی کے مہدی شاہ 4140 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ مزید تفصیلات

تازہ ترین  نتائج نیچے ٹیبل میں دیکھے جاسکتے ہیں:

بارش اور بالائی علاقوں میں برفباری کے باعث گانچے میں قانون ساز اسمبلی کے حلقہ جی بی اے 24 وادی سلتر و سیاچن کے پولنگ اسٹیشنز پر عملہ نہ پہنچ سکا جس کے باعث ووٹنگ کا عمل تاخیر سے شروع ہوا۔ 


فوٹو: سوشل میڈیا
فوٹو: سوشل میڈیا

گلگت بلتستان میں پولنگ اسٹیشنز کی مجموعی تعداد 1260 ہے جس میں سے مرد خواتین ووٹرز کے مشترکہ پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 362 ہے، 297 پولنگ اسٹیشنز کو حساس اور 280 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔


مردوں کے ساتھ خواتین ووٹرز بھی انتہائی پرجوش تھے اور ان کا کہنا تھاکہ اپنے حقوق کا حصول ووٹوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

شدید سرد موسم میں 98 سالہ بزرگ شہری شعبان علی نے نگر میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا جب کہ عمر رسیدہ خاتون وہیل چیئر پر ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشن پہنچی۔ 

اس کے علاوہ معذور شہری بھی ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ اسٹیشنز پہنچے اور اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا۔

فوٹو: سوشل میڈیا

الیکشن پر سیکیورٹی کے لیے 13 ہزار 481 اہلکار تعینات کیے گئے جب کہ دیگر صوبوں سے بھی 5 ہزار سے زائد پولیس اہلکار فرائض انجام دے رہے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجا شہباز خان کا کہنا ہے کہ کہیں سے کسی بھی بدنظمی کی شکایت نہیں ملی، بیلٹ بکسز کی آر  او آفس تک ترسیل اور نتائج کے لیے بھی فول پروف انتظامات کر رکھے ہیں، انتخابی عمل کو شفاف بنائیں گے۔ 

پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، مسلم لیگ ن اور آزاد امیدوار میدان میں ہیں اور سب کو اپنی اپنی کامیابی کا بھرپور یقین ہے۔

فوٹو: سوشل میڈیا

ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی جانب سے بلاول اور مریم نواز نے بھرپور انتخابی مہم چلائی جب کہ تحریک انصاف کی جانب سے علی امین گنڈاپور، ذلفی بخاری اور مراد سعید انتخابی مہم میں پیش پیش رہے۔