Geo News
Geo News

Time 26 مئی ، 2021
دنیا

امریکی کمیشن کی بھارت کو باعث تشویش ملک کا درجہ دینے کی تجویز

بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی نے  سالانہ رپورٹ جاری کردی جس کے مطابق بھارت میں 2020 میں مذہبی آزادی کی سمت منفی رہی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ہندو قوم پرست پالیسیوں کو فروغ دینے سے مذہبی آزادی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

کمیشن رپورٹ کے مطابق مذہبی امتیاز پر مبنی شہریت ترمیمی ایکٹ سے ریاستی، غیر ریاستی عناصر نے مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا، مسلمانوں کے خلاف ہندو انتہا پسندوں کے تشدد اور پولیس جارحیت بظاہر سوچی سمجھی سازش تھی۔

امریکی رپورٹ میں کہا گہا ہے کہ مودی حکومت شہریت کے متنازع قوانین کو مسلمانوں اور اپوزیشن کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے،  مذہب کی زبردستی تبدیلی کے جعلی بیانیے کی بنیاد پر بین المذہبی شادیوں کو روکنے سے تشدد کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی پارلیمان نے مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیموں مزید پابندیاں عائد کیں، حکومت کی جانب سے بینک اکاؤنٹ منجمد کرنے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بھارت میں اپنے دفاتر بند کرنے پڑے جبکہ کورونا وبا کے آغاز میں گمراہ کن انفارمیشن اور نفرت انگیز بیانات کے ذریعے اقلیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی رپورٹ کا کہنا ہے کہ بابری مسجد کے تمام ملزمان کو بری کرنے اور مذہبی تشدد پر حکومتی خاموشی نے بھارت میں نفرت و تشدد کی حوصلہ افزائی کی ہے، اپوزیشن اور اختلافِ رائے رکھنے والوں پر مودی حکومت کا مسلسل کریک ڈاؤن باعث تشویش ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہندو قوم پرست گروہوں نے بلا خوف سزا مسلمانوں کے گھروں، مساجد، کاروبار کو وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنایا۔

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے تجویز دی ہے کہ بھارت کو باعث تشویش ملک کا درجہ دیا جائے، بھارت میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پابندیاں عائد کی جائیں۔

کمیشن نے مزید تجاویز دی کہ بھارت کے ساتھ دوطرفہ اور کثیرالاملکی سطح پر مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کے معاملات اٹھائے جائیں، بھارت میں جاری مذہبی آزادی کی مسلسل خلاف ورزیوں کی مذمت کی جائے۔